(۲۹۸۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِِ ، وَیَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ بُدَیْلٍ ، عَنْ أَبِی الْجَوْزَائِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا رَکَعَ لَمْ یَشْخَصْ رَأْسَہُ ، وَلَمْ یُصَوِّبْہُ وَلَکِنْ بَیْنَ ذَلِکَ ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ لَمْ یَسْجُدْ حَتَّی یَسْتَوِیَ قَائِمًا ، وَإِذَا سَجَدَ فَرَفَعَ رَأْسَہُ لَمْ یَسْجُدْ حَتَّی یَسْتَوِیَ جَالِسًا ، وَکَانَ یَقُولُ بَیْنَ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ التَّحِیَّۃُ۔
(٢٩٨٢) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع کرتے تو اپنے سر مبارک کو نہ کمر سے نیچا رکھتے اور نہ ہی اونچا بلکہ ان دونوں کی درمیانی کیفیت میں رکھتے۔ جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدے میں نہ جاتے جب تک اعتدال سے کھڑے نہ ہوجاتے۔ اور جب سجدہ کرنے کے بعد سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ کرتے جب تک اطمینان سے بیٹھ نہ جاتے۔ آپ ہر دو رکعات کے بعد التحیہ پڑھا کرتے تھے۔