(۲۹۸۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ؛ أَنَّہُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَجُلٌ یُصَلِّی نَاحِیَۃً مِنْ أَبْوَابِ کِنْدَۃَ ، فَجَعَلَ لاَ یُتِمُّ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ لَہُ حذَیْفَۃُ : مُذْ کَمْ ہَذِہِ صَلاَتُک ؟ قَالَ : مُذْ أَرْبَعِینَ سَنَۃً ، فَقَالَ حُذَیْفَۃُ : مَا صَلَّیْتَ مُذْ أَرْبَعِینَ سَنَۃً ، وَلَوْ مِتَّ وَہَذِہِ صَلاَتُک مِتَّ عَلَی غَیْرِ الْفِطْرَۃِ الَّتِی فُطِرَ عَلَیْہَا مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْہِ یُعَلِّمُہُ ، فَقَالَ : إنَّ الرَّجُلَ لَیُخَفِّفُ الصَّلاَۃَ وَیُتِمُّ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ۔ (بخاری ۸۹۱۔ احمد۵/۳۸۴)
(٢٩٨٣) حضرت زید بن وہب کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ ابوابِ کندہ کی طرف ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے لیکن رکوع سجدہ ٹھیک طرح نہیں کررہا۔ جب اس نے نماز مکمل کرلی تو حضرت حذیفہ نے اس سے فرمایا کہ تم ایسی نماز کتنے عرصے سے پڑھ رہے ہو ؟ اس نے کہا کہ چالیس سال سے۔ حضرت حذیفہ نے فرمایا کہ تم نے چالیس سال سے نماز نہیں پڑھی، اگر ایسی نماز پڑھتے ہوئے تمہارا انتقال ہوجاتا تو تم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقے کے علاوہ کسی اور طریقے پر دنیا سے جاتے۔ پھر حضرت حذیفہ اسے نماز سکھانے لگے اور فرمایا کہ آدمی نماز میں تخفیف کرسکتا ہے لیکن رکوع اور سجود میں کمی نہ کرے۔