(۲۹۸۳۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ، عَن سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ، عَن شُرَحْبِیلَ بْنِ السَّمْطِ قَالَ : قلْنَا لِکَعْبِ بْنِ مُرَّۃَ یَا کَعْبُ ، حَدِّثْنَا ، عَن رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فقَالَ : کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَائَہُ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، اسْتَسْقِ اللَّہَ لِمُضَرَ ، قَالَ : فَرَفَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدَیْہِ فَقَالَ : اللَّہُمَّ اسْقِنَا غَیْثًا مَرِیعًا مَرِیًّا عَاجِلاً غَیْرَ رَائِثٍ نَافِعًا غَیْرَ ضَارٍّ، قَالَ : فَمَا جَمَّعُوا حَتَّی أُحیوا فَأَتَوْہُ فَشَکَوْا إلَیْہِ الْمَطَرَ ، فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، تَہَدَّمَتِ الْبُیُوتُ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِہِ: اللَّہُمَّ حَوَالَیْنَا، وَلا عَلَیْنَا، قَالَ: فَجَعَلَ السَّحَابُ یَتَقَطَّعُ یَمِینًا وَشِمَالاً۔ (ابن ماجہ ۱۲۶۹۔ طیالسی ۱۱۹۹)
(٢٩٨٣٥) حضرت شرحبیل بن السِّمط فرماتے ہیں : ہم نے حضرت کعب بن مرّہ سے کہا : آپ ہمیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کوئی حدیث بیان کریں ؟ پس وہ فرمانے لگے : ہم ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے کہ ایک آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! قبیلہ مضر والوں کے لیے پانی کی دعا فرمائیے، حضرت کعب فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی : اے اللہ ! ہمں ا سیراب کر دے ایسی بارش سے جو زمین کو سبز و شاداب کر دے، نفع بخش ہو، جلد آئے نہ کہ دیر سے، فائدہ پہنچانے والی ہو نہ کہ نقصان پہنچانے والی ہو، حضرت کعب فرماتے ہیں : لوگوں نے ابھی ایک جمعہ بھی نہیں گزارا تھا یہاں تک کہ اتنی بارش ہوئی کہ زمین سرسبز و شاداب ہوگئی، پس لوگ آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بارش کی شکایت کرنے لگے، پس لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! تحقیق گھر گرنے لگے ہیں۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر دعا فرمائی : اے اللہ ! ہمارے ارد گرد بارش نازل فرما اور ہم پر مت نازل کر، حضرت کعب فرماتے ہیں : کہ یکایک بادل دائیں اور بائیں چَھٹ گئے۔