(۲۹۸۳۶) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، عَن حَمْزَۃَ الزَّیَّاتِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَن سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَن ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَن أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا دَعَا لأَحَدٍ بَدَأَ بِنَفْسِہِ فَذَکَرَ ذَاتَ یَوْمٍ مُوسَی فَقَالَ : رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْنَا وَعَلَی مُوسَی ، لَوْ کَانَ صَبَرَ لَقَصَّ اللَّہُ عَلَیْنَا مِنْ خَبَرِہِ ، وَلَکِنْ قَالَ : {إنْ سَأَلْتُک عَن شَیْئٍ بَعْدَہَا فَلا تُصَاحِبْنِی قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّی عُذْرًا}۔ (بخاری ۱۲۲۔ مسلم ۱۸۴۷)
(٢٩٨٣٦) حضرت ابی ّ بن کعب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی کسی کے لیے دعا کرتے تو اپنی ذات سے ابتدا فرماتے ، پس ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت موسیٰ ذکر کیا اور فرمایا : اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو ہم پر اور موسیٰ پر، اگر وہ صبر فرماتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی کچھ اور باتیں بھی بیان فرماتے، لیکن انھوں نے فرمایا : اگر میں اس کے بعد تجھ سے کسی چیز کا پوچھوں تو مجھے اپنے ساتھ مت رکھیو۔ تحقیق مل گیا ہے آپ کو میری طرف سے عذر۔