(۲۹۸۶۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَن سُفْیَانَ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ، عَنْ عَلِیٍّ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ: تَمَّ نُورُک فَہَدَیْت فَلَکَ الْحَمْدُ ، وَعَظُمَ حِلْمُک فَعَفَوْت فَلَکَ الْحَمْدُ ، وَبَسَطْت یَدَک فَأَعْطَیْت فَلَکَ الْحَمْدُ رَبَّنَا وَجْہُک أَکْرَمُ الْوُجُوہِ، وَجَاہُک خَیْرُ الْجَاہِ، وَعَطِیَّتُک أَفْضَلُ الْعَطِیَّۃِ وَأَہْنَؤُہَا، تُطَاعُ رَبَّنَا فَتَشْکُرُ، وَتُعْصَی رَبَّنَا فَتَغْفِرُ، تُجِیبُ الْمُضْطَرَّ، وَتَکْشِفُ الضُّرَّ، وَتَشْفِی السَّقِیمَ، وَتُنْجِی مِنَ الْکَرْبِ وَتَقْبَلُ التَّوْبَۃ ، وَتَغْفِرُ الذَّنْبَ لِمَنْ شِئْت ، لاَ یُجْزِئُ بآلائِکَ أَحَدٌ ، وَلا یُحْصِی نَعْمَائَک قَوْلُ قَائِلٍ یَعْنِی : کُلٌّ یَقُولُ بَعْدَ الصَّلاۃِ۔ (ابویعلی ۴۳۶)
(٢٩٨٦٧) حضرت عاصم بن ضمرہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی یوں دعا فرماتے تھے : تیرا نور مکمل ہوا پھر تو نے ہدایت عطا فرمائی، پس تیرے لیے ہی تمام تعریفیں ہیں، اور تیری حلم و بردباری عظیم ہوئی پھر تو نے در گزر فرمایا ، پس تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، اور تیرا ہاتھ کشادہ ہوا، پھر تو نے عطا فرمایا پس تیرے لیے ہی تمام تعریفیں ہیں، ہمارے رب ! تیرا چہرہ تمام چہروں میں معزز ترین ہے، اور تیرا مرتبہ سب مرتبوں والے سے بہتر ہے، اور تیرا عطیہ افضل ترین اور فائدہ مند عطیہ ہے، ہمارے رب کی اطاعت کی جائے تو وہ ممنون ہوتا ہے، اور ہمارے رب کی نافرمانی کی جائے تو وہ مغفرت کرتا ہے، اور مجبور و پریشان کی پکار کا جواب دیتا ہے، اور تو مصیبت و تکلیف کو دور کرتا ہے، اور تو بیماروں کو شفا دیتا ہے، اور جس کے لیے چاہتا ہے گناہوں کو معاف کردیتا ہے، کوئی شخص بھی تیری نعمتوں کا بدلہ نہیں دے سکتا، اور کہنے والے کی بات تیری نعمتوں کو شمار نہیں کرسکتی، یہ سب کلمات آپ فرض نماز کے بعد کہتے تھے۔