(۲۹۸۷۲) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَن ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ مَوْلًی لَہُمْ ، أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ الزُّبَیْرِ کَانَ یُہَلِّلُ دُبُرَ کُلِّ صَلاۃٍ یَقُولُ : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ ، لاَ شَرِیکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ ، وَلا نَعْبُدُ إِلاَّ إیَّاہُ ، لَہُ النِّعْمَۃُ وَلَہُ الْفَضْلُ وَلَہُ الثَّنَائُ الْحَسَنُ ، لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّینَ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ ، ثُمَّ یَقُولُ ابْنُ الزُّبَیْرِ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُہَلِّلُ بِہِنَّ دُبُرَ کُلِّ صَلاۃٍ۔ (مسلم ۴۱۶۔ ابوداؤد ۱۵۰۲)
(٢٩٨٧٢) حضرت ابو الزبیر جو کہ حضرت عبداللہ بن زبیر کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر ہر نماز کے بعد یوں کلمہ پڑھا کرتے تھے : نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے جو تنہا ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اس ہی کا ملک ہے، اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، گناہوں سے بچنے اور نیکی کے کرنے کی طاقت صرف اللہ کی مدد سے ہے، اور ہم اس کی ہی عبادت کرتے ہیں، اسی کی نعمت ہے، اور اسی کی مہربانی ہے، اور اس کے لیے اچھی تعریف ہے، نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کی ذات کے ، دین کے لیے اخلاص اپنائے ہوئے اگرچہ کافروں کو بُرا ہی لگے۔ پھر حضرت عبداللہ بن زبیر فرماتے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر نماز کے بعد یہی کلمات فرماتے تھے۔