(۲۹۸۷۳) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَتَی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رضی اللہ عَنہ فَاطِمَۃَ رضی اللہ عنہا فَقَالَ إنِّی أَشْتَکِی صَدْرِی مِمَّا أَمدُ بِالْغَرْبِ ، قَالَتْ : وَأَنَا وَاللہ إنِّی لأشْتَکِی یَدَیَّ مِمَّا أَطْحَنُ الرَّحَا ، فَقَالَ : لَہَا : ائْتِی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَدْ أَتَاہُ سَبْیٌ ائْتِیہِ لَعَلَّہُ یُخْدِمُکِ خَادِمًا ، فَانْطَلَقَا إِلَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَتَاہُمَا فَقَالَ : إنَّکُمَا جِئْتُمَانِی لأُخْدِمَکُمَا خَادِمًا ، وَإِنِّی سَأُخْبِرُکُمَا بِمَا ہُوَ خَیْرٌ لَکُمَا مِنَ الْخَادِمِ ، فَإِنْ شِئْتُمَا أَخْبَرْتُکُمَا بِمَا ہُوَ خَیْرٌ لَکُمَا مِنَ الْخَادِمِ : تُسَبِّحَانِہِ دُبُرَ کُلِّ صَلاۃٍ ثَلاثًا وَثَلاثِینَ وَتَحْمَدَانِہِ ثَلاثًا وَثَلاثِینَ وَتُکَبِّرَانِہِ أَرْبَعًا وَثَلاثِینَ ، وَإِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَکُمَا مِنَ اللَّیْلِ فَتِلْکَ مِئَۃ قَالَ عَلِیٌّ رضی اللہ ، عَنہ : فَمَا أَعْلَمُنِی تَرَکْتہَا بَعْدُ ، قَالَ لَہُ عَبْدُ اللہِ ابْنُ الْکَوَّائِ : وَلا لَیْلَۃَ صِفِّینَ ، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ : قَاتَلَکُمَ اللَّہُ یَا أَہْلَ الْعِرَاقِ ، وَلا لَیْلَۃَ الصِّفِّینِ۔ (ابن ماجہ ۴۱۵۲۔ احمد ۷۹)
(٢٩٨٧٣) حضرت سیائب فرماتے ہیں کہ حضرت علی حضرت فاطمۃ الزہرائ کے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے : کنویں کا ڈول کھینچنے کی وجہ سے میرا سینہ درد کررہا ہے، تو حضرت فاطمۃ الزہرائ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! چکی پیسنے کی وجہ سے میرے ہاتھوں میں بھی درد رہتا ہے، پھر حضرت علی نے ان سے فرمایا : تم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ، تحقیق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چند غلام آئے ہیں، تم ان کے پاس جاؤ تو شاید وہ تمہیں خدمت کے لیے کوئی خادم عطا فرما دیں۔ پھر یہ دونوں حضرات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف چلے جب دونوں پہنچے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم دونوں میرے پاس اس لیے آئے ہو کہ میں تمہیں خدمت کے لیے کوئی خادم عطا کروں، اور یقیناً میں تمہیں عنقریب ایک ایسی چیز بتاؤں گا جو تمہارے لیے خادم سے بھی بہتر ہوگی، اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں وہ چیز بتادوں جو تمہارے حق میں خادم سے بھی بہتر ہے : ” تم دونوں ہر نماز کے بعد اور جب رات کو بستر پر لیٹنے لگو تو تینتیس (٣٣) مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس (٣٣) مرتبہ الحمد للہ، اور چونتیس (٣٤) مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو، تو یہ پورے سو (١٠٠) ہوجائیں گے۔ “
حضرت علی فرماتے ہیں : مجھے یاد نہیں اس کے بعد کبھی میں نے ان کلمات کو چھوڑا ہو، اس پر عبداللہ بن الکواء کہنے لگا : جنگ صفین کی رات کو بھی نہیں، تو حضرت علی نے فرمایا : اے عرا ق والو ! اللہ تمہیں ہلاک کرے، جنگ صفین کی رات کو بھی نہیں چھوڑے۔