hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 29873

.

ابن أبي شيبة

29873
Ibn Abi Shaybah
(۲۹۸۷۴) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : خُلَّتَانِ لاَ یُحَافِظُ عَلَیْہِمَا رَجُلٌ إِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّۃَ ، ہُمَا یَسِیرٌ وَمَنْ یَفْعَلُہُمَا قلِیلٌ قِیلَ : مَا ہُمَا یَا رَسُولَ اللہِ قَالَ : الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ ، یُسَبِّحُ الرَّجُلُ فِی دُبُرِ کُلِّ صَلاتِہِ عَشْرًا وَیَحْمَدُ عَشْرًا وَیُکَبِّرُ عَشْرًا ، فَذَلِکَ خَمْسُونَ وَمِئَۃٌ عَلَی اللِّسَانِ ، وَأَلْفٌ وَخَمْسُمِئَۃٍ فِی الْمِیزَانِ قَالَ : وَلَقَدْ رَأَیْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعُدُّہُنَّ فِی یَدِہِ وَیُسَبِّحُ ثَلاثًا وَثَلاثِینَ وَیَحْمَدُ ثَلاثًا وَثَلاثِینَ وَیُکَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلاثِینَ عِنْدَ مَضْجَعِہِ مِنَ اللَّیْلِ وَإِذَا أَوی إِلَی فِرَاشِہِ سَبَّحَ وَحَمِدَ وَکَبَّرَ مِئَۃ فَذَلِکَ مِئَۃ عَلَی اللِّسَانِ ، وَأَلْفٌ فِی الْمِیزَانِ ، فَأَیُّکُمْ یُذْنِبُ فِی اللَّیْلَۃِ أَلْفَیْنِ وَخَمْسَمِئَۃٍ۔ (ابن ماجہ ۹۲۶۔ ترمذی ۳۴۱۰)
(٢٩٨٧٤) حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : دو اچھی عادتیں ایسی ہیں کہ جو شخص ان عادات کی حفاظت کرے گا تو جنت میں داخل ہوگا، یہ دونوں آسان ہیں اور پھر بھی ان کے کرنے والے تھوڑے ہیں، پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول ! وہ دو عادات کون سی ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانچ نمازیں ہیں، جو شخص ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ، اور دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہے گا تو یہ زبان سے کہنے کے اعتبار سے ڈیڑھ سو (١٥٠) ہیں اور ترازو پر وزن کرنے کے اعتبار سے ڈیڑھ ہزار (١٥٠٠) ہوں گی، حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو انگلیوں پر بھی شمار فرمایا اور دوسری (٢) اچھی عادت یہ ہے کہ آدمی رات کو بستر پر لیٹتے وقت تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہے گا، تو یہ زبان سے کہنے کے اعتبار سے سو (١٠٠) ہیں اور ترازو پر وزن کے اعتبار سے ہزار ہوں گے ۔ پس تم میں سے کون ہے جو رات کو ڈھائی ہزار گناہ کرتا ہو ؟ “