(۲۹۹۳۲) حَدَّثَنَا محمد بْنُ فُضَیْلٍ ، عَن لَیْثٍ ، عَن خَالِدٍ ، عَن سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : دَخَلْت الْمَسْجِدَ وَأَنَا أَرَی أَنِّی قَدْ أَصْبَحْت وَإِذَا عَلَیَّ لَیْلٌ طَوِیلٌ ، وَإِذَا لَیْسَ فِیہِ أَحَدٌ غَیْرِی ، فَقُمْت فَسَمِعْت حَرَکَۃً خَلْفِی فَفَزِعْت ، فَقَالَ : أَیُّہَا الْمُمْتَلِئُ قَلْبُہُ فَرَقًا ، لاَ تَفْرَقْ ، أو لاَ تَفْزَعْ وَقُلِ : اللَّہُمَّ إنَّک مَلِیکٌ مُقْتَدِرٌ مَا تَشَائُ مِنْ أَمْرٍ یَکُونُ ، ثُمَّ سَلْ مَا بَدَا لَکَ ، قَالَ سَعِیدٌ : فَمَا سَأَلْت اللَّہَ شَیْئًا إِلاَّ اسْتَجَابَ لِی۔
(٢٩٩٣٢) حضرت خالد فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن المسیب نے ارشاد فرمایا : میں مسجد میں داخل ہوا اور میرا ارادہ تھا کہ میں صبح تک مسجد میں رہوں گا، پس جب رات مجھ پر بہت لمبی ہوگئی اور جبکہ مسجد میں میرے علاوہ کوئی بھی نہیں تھا ، تو میں کھڑا ہوا۔ اچانک میں نے اپنے پیچھے کسی کی حرکت کی آواز سنی، تو میں ڈر گیا۔ پس کوئی کہنے لگا : اے اپنے دل کو گھبراہٹ سے بھرنے والے ! ڈر مت، یا خوف مت کھا، اور یہ کلمات کہہ : اے اللہ ! یقیناً تو ہی بادشاہ ہے، قدرت رکھنے والا ہے، جس کام کا تو ارادہ کرتا ہے وہ ہوجاتا ہے۔ پھر تو سوال کر جو بات تیرے سامنے ظاہر ہو۔ حضرت سعید فرماتے ہیں : پھر میں نے اللہ سے کوئی چیز نہیں مانگی مگر یہ کہ اللہ نے میری دعا قبول فرمائی۔