(۲۹۹۵۸) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَن شَرِیکٍ ، عَنْ أَبِی ہَاشِمٍ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، عَن قَیْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ : صَلَّی عَمَّارٌ صَلاۃً کَأَنَّہُمْ أَنْکَرُوہَا ، فَقِیلَ لَہُ فِی ذَلِکَ فَقَالَ : أَلَمْ أُتِمَّ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ ؟ قَالُوا : بَلَی ، قَالَ : فَإِنِّی قَدْ دَعَوْت اللہ بِدُعَائٍ سَمِعْتہ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اللَّہُمَّ بِعِلْمِکَ الْغَیْبَ وَقُدْرَتِکَ عَلَی الْخَلْقِ أَحْیِنِی مَا عَلِمْت الْحَیَاۃَ خَیْرًا لِی ، وَتَوَفَّنِی إذَا عَلِمْت الْوَفَاۃَ خَیْرًا لِی ، اللَّہُمَّ إنِّی أَسْأَلُک کَلِمَۃَ الإِخْلاصِ فِی الْغَضَبِ وَالرِّضَی ، وَالْقَصْدَ فِی الْغِنَی وَالْفَقْرِ ، وَخَشْیَتَکَ فِی الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ ، وَأَسْأَلُک الرِّضَا بِالْقُدْرَۃِ ، وَأَسْأَلُک نَعِیمًا لاَ یَنْفَدُ ، وَقُرَّۃَ عَیْنٍ لاَ تَنْقَطِعُ ، وَلَذَّۃَ الْعَیْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَلَذَّۃَ النَّظَرِ إِلَی وَجْہِکَ ، وَشَوْقًا إِلَی لِقَائِکَ ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ ضَرَّائَ مُضِرَّۃٍ ، وَفِتْنَۃٍ مُضِلَّۃٍ ، اللَّہُمَّ زَیِّنَّا بِزِینَۃِ الإِیمَانِ وَاجْعَلْنَا ہُدَاۃً مُہْتَدِینَ۔ (بزار ۱۳۹۲۔ طبرانی ۶۲۵)
(٢٩٩٥٨) حضرت قیس بن عباد فرماتے ہیں کہ حضرت عمار نے نماز پڑھائی تو لوگ گویا ان کی نماز کو ناپسند کر رہے تھے ، پھر ان سے اس بارے میں پوچھا گیا ؟ تو انھوں نے فرمایا : کیا میں رکوع و سجود کو مکمل طور پر ادا نہ کروں ؟ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں ! ضرور ادا کریں۔ انھوں نے فرمایا : یقیناً میں نے اللہ سے دعا مانگی جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی تھی۔ ” اے اللہ ! اپنے علم غیب کے ساتھ اور اپنی مخلوق پر قدرت کے ساتھ، تو مجھے زندہ رکھ جب تک تو جانتا ہے کہ زندگی میرے حق میں بہتر ہے، اور مجھے موت دے دے جب تو جان لے کہ موت میرے لیے بہتر ہے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے غصہ اور خوشی میں اخلاص کی بات کا سوال کرتا ہوں، اور امیری اور فقیری میں میانہ روی کا ، ظاہر اور پوشیدگی میں تیرے خوف کا، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تقدیر پر راضی رہنے کا، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ایسی نعمت کا جو ختم نہ ہو، اور آنکھ کی ٹھنڈک کا جو منقطع نہ ہو، اور موت کے بعد مزے کی زندگی کا۔ اور تیرے چہرہ انور کے دیدار کی لذت کا، اور تیری ملاقات کے شوق کا، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں تکلیف کی حالت میں ہونے والی تکلیف سے اور گمراہ کرنے والے فتنہ سے۔ اے اللہ ! ہمیں ایمان کی زینت سے مزین فرما، اور ہمیں ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔