(۲۹۹۹۸) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَن مُسْلِمِ بْنِ أَبِی مَرْیَمِ قَالَ : جَائَتْ أُمُّ ہَانِئٍ إِلَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللہِ، قَدْ کَبِرْت وَضَعُفْت فَعَلِّمْنِی عَمَلاً أَعْمَلُہُ، وَأَنَا جَالِسَۃٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّک إِنْ کَبَّرْت اللَّہَ مِئَۃ تَکْبِیرَۃٍ کَانَتْ خَیْرًا مِنْ مِئَۃ بَدَنَۃٍ مُجَلَّلَۃٍ مُتَقَبَّلَۃٍ ، وَإِنَّک إِنْ سَبَّحْت اللَّہَ مِئَۃ تَسْبِیحَۃٍ کَانَتْ خَیْرًا مِنْ مِئَۃ رَقَبَۃٍ تُعْتِقِینَہَا ، وَإِنَّک إِنْ حَمِدْت اللَّہَ مِئَۃ تَحْمِیدَۃٍ کَانَتْ خَیْرًا مِنْ مِئَۃ فَرَسٍ مُسَرَّجٍ مُلَجَّمٍ یحمل عَلَیْہِنَّ فِی سَبِیلِ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ۔
(نسائی ۱۰۶۸۰۔ ابن ماجہ ۳۸۱۰)
(٢٩٩٩٨) حضرت مسلم بن ابی مریم فرماتے ہیں کہ حضرت ام ھانی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور فرمانے لگیں : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں کبر سنی کو پہنچ گئی اور کمزور ہوگئی ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے کوئی ایسا عمل سکھلا دیں جو میں بیٹھے بیٹھے کرتی رہا کروں۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تو سو مرتبہ اللہ کی کبریائی بیان کرے تو یہ سو جھول پہنائے ہوئے قبول شدہ اونٹوں سے بہتر ہے، اور بیشک تو اگر سو مرتبہ اللہ کی پاکی بیان کرے تو یہ سو غلاموں سے جن کو تو نے آزاد کیا ہو بہتر ہے، اور بیشک اگر تو اللہ کی سو مرتبہ حمد و ثنا کرے تو یہ زین کسے ہوئے اور لگام لگے ہوئے سو گھوڑوں سے بہتر ہے جن پر سامان اللہ کی راہ میں جانے کے لیے باندھا گیا ہو۔