hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 30001

.

ابن أبي شيبة

30001
Ibn Abi Shaybah
(۳۰۰۰۲) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَن حُصَیْنٍ ، عَن ہِلالِ بْنِ یَِسَافٍ ، عَن سُحَیْمِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ : بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ عَبْدِ اللہِ إذْ جَائَتْ وَلِیدَۃٌ أَعْرَابِیَّۃٌ إِلَی سَیِّدِہَا وَنَحْنُ نَعْرِضُ مُصْحَفًا ، فَقَالَتْ : مَا یجلسک وَقَدْ لَقَعَ فُلانٌ مُہْرَک بِعَیْنِہِ ، فَتَرَکَہُ یتقلب فِی الدَّارِ کَأَنَّہُ فِی قدر ، قُمْ فَابْتَغِ رَاقِیًا ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : لاَ تَبْتَغِ رَاقِیًا وَانْفُثْ فِی مَنْخِرِہِ الأَیْمَن أَرْبَعًا ، وَفِی الأَیْسَرِ ثَلاثًا ، وَقُلْ : لاَ بَأْسَ ، لاَ بأس ، أَذْہِبَ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِی ، لاَ یَکْشِفُ الضُّرَّ إِلاَّ أَنْتَ ، قَالَ : فَذَہَبَ ، ثُمَّ رَجَعَ إلَیْنَا ، قَالَ : قلت مَا أَمَرَتْنِی فَمَا جِئْت حَتَّی رَاثَ وَبَالَ وَأَکَلَ۔
(٣٠٠٠٢) حضرت سحیم بن نوفل فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ کے پاس بیٹھے تھے کہ اس درمیان ایک دیہاتی بچی اپنے آقا کے پاس حاضر ہوئی اور ہم قرآن مجید زبانی پڑھ رہے تھے۔ پس وہ کہنے لگی : کس چیز نے تجھے یہاں بٹھا رکھا ہے ؟ تحقیق تیرے فلاں اونٹ کو کسی نے نظر بد لگا دی ہے۔ پس اس نے کھانا چھوڑ دیا ہے اور گھر میں بہت بےچین ہو رہا ہے گویا کہ وہ ہانڈی میں ہو ! کھڑے ہو کر کسی تعویذ کرنے والے کو تلاش کر، تو حضرت عبداللہ نے فرمایا : کسی تعویذ کرنے والے کو تلاش مت کرو۔ اور اس کے دائیں نتھنے میں چار مرتبہ اور بائیں نتھنے میں تین مرتبہ پھونک مارو اور یہ کلمات کہو ، کوئی حرج کی بات نہیں، کوئی حرج کی بات نہیں، لوگوں کے رب اس حرج کو دور فرما۔ تو شفاء عطا کر تو شفا دینے والا ہے، مصیبت کو تیرے سوا کوئی دور نہیں کرتا ۔ راوی فرماتے ہیں ، وہ آدمی چلا گیا پھر ہمارے پاس واپس لوٹا تو کہنے لگا، جن کلمات کا آپ نے حکم دیا میں نے وہ پڑھے، میں آپ کے پاس نہیں آیا یہاں تک کہ اس نے لید کی اور پیشاب کیا اور کھانا کھایا۔