(۳۰۰۱۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَن حَبِیبٍ ، عَن عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ قَالَ : إذَا أَرَادَ أَحَدُکُمُ الْحَاجَۃَ فَلْیَقُلِ اللَّہُمَّ إنِّی أَسْتَخِیرُک بِعِلْمِکَ وَأَسْتَقْدِرُک بِقُدْرَتِکَ وَأَسْأَلُک مِنْ فَضْلِکَ ، فَإِنَّک تَقْدِرُ ، وَلا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ ، وَلا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ ، اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ ہَذَا الأَمْر الَّذِی أَرَدْتہ خَیْرًا لِی فِی دِینِی وَمَعِیشَتِی وَخَیْرِ عَاقِبَۃٍ فَیَسِّرْہُ لِی وَبَارِکْ لِی فِیہِ ، وَإِنْ کَانَ غَیْرُ ذَلِکَ خَیْرًا فَقَدِّرْ لِی الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ وَرَضِّنِی بِہِ۔
(٣٠٠١٧) حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی ایک کو کوئی ضرورت درپیش ہو تو اس کو چاہیے کہ یوں دعا کرے اے اللہ ! میں تیرے علم کے ذریعہ تجھ سے خیر مانگتا ہوں۔ اور تیری قدرت کے ذریعہ تجھ سے قدرت طلب کرتا ہوں۔ اور میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں ۔ پس بلاشبہ تجھے قدرت ہے اور مجھے قدرت نہیں ہے۔ اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا ۔ اور تو غیب کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ ! اگر یہ کام جس کے کرنے کا میں نے ارادہ کیا ہے میرے دین و دنیا اور آخرت میں بہتر ہے تو اس کو میرے لیے آسان فرما اور میرے لیے اس میں برکت فرما۔ اور اگر اس کے علاوہ کسی کام میں بھلائی ہے تو اس بھلائی کو میرے لیے مقدر فرما جہاں کہیں بھی ہو اور مجھے اس سے راضی فرما دے۔