(۳۰۰۱۶) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ : حدَّثَنَی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الْمَوَّالِی ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْکَدِرِ یُحَدِّثُ عَبْدَ اللہِ بْنَ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعَلِّمُنَا الاسْتِخَارَۃَ کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّورَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ ، قَالَ : إذَا ہَمَّ أَحَدُکُمْ بِأَمْرٍ فَلْیُصَلِّ رَکْعَتَیْنِ غَیْرَ الْفَرِیضَۃِ ثُمَّ یُسَمِّی الأَمْرَ وَیَقُولُ : اللَّہُمَّ إنِّی أَسْتَخِیرُک بِعِلْمِکَ ، وَأَسْتَقْدِرُک بِقُدْرَتِکَ ، وَأَسْأَلُک مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیمِ ، فَإِنَّک تَقْدِرُ ، وَلا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ ، وَلا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ ، اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ ہَذَا الأَمْرُ خَیْرًا لِی فِی دِینِی وَعَاقِبَۃِ أَمْرِی فَاقْدِرْہُ لِی ، وَیَسِّرْہُ لِی ، وَبَارِکْ لِی فِیہِ ، وَإِنْ کَانَ شَرًّا فِی دِینِی وَعَاقِبَۃِ أَمْرِی فَاصْرِفْہُ عَنی وَاصْرِفْنِی عَنہُ وَاقْدُرْ لِی الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ، ثُمَّ رَضِّنِی بِہِ۔ (بخاری ۱۱۶۲۔ ابوداؤد ۱۵۳۳)
(٣٠٠١٦) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم کو استخارہ اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن مجید کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔ اور یوں ارشاد فرمایا کرتے تھے : جب تمہیں کوئی کام درپیش ہو تو دو رکعت نماز نفل پڑھو۔ پھر اس کام کا نام لو۔ اور یوں دعا کرو : اے اللہ ! میں ترھے علم کے ذریعہ تجھ سے خیر مانگتا ہوں اور تیری قدرت کے ذریعہ تجھ سے قدرت طلب کرتا ہوں، اور میں تیرے بڑے فضل کا سوال کرتا ہوں پس بلاشبہ تجھے قدرت ہے اور مجھے قدرت نہیں ہے۔ اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور غیب کی باتوں کو تو خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ ! اگر یہ کام میری دنیا و آخرت میں میرے لیے بہتر ہے تو اس کو میرے لیے مقدر فرما۔ اور آسان فرما۔ اور میرے لیے اس میں برکت عطا فرما۔ اور اگر یہ کام میری دنیا و آخرت میں شر ہے تو اس کو مجھ سے اور مجھ کو اس سے دور فرما۔ اور میرے لیے خیر مقدر فرما جہاں کہیں بھی ہو اور پھر اس سے راضی فرما دے۔