(۳۰۰۲۸) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَن مُوسَی بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَوْ عَنْ أَخِیہِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الَّذِینَ یَذْکُرُونَ مِنْ جَلالِ اللہِ من تَسْبِیحِہِ وَتَحْمِیدِہِ وَتَکْبِیرِہِ وَتَہْلِیلِہِ ، یَتَعَاطَفْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ ، لَہُنَّ دَوِیٌّ کَدَوِیِّ النَّحْلِ ، یُذَکِّرُونَ بِصَاحِبِہِنَ ، أَوَ لاَ یُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَنْ لاَ یَزَالَ عِنْدَ الرَّحْمَن شَیْئٌ یُذَکِّرُ بِہِ۔ (ابن ماجہ ۳۸۰۹۔ احمد ۲۷۱)
(٣٠٠٢٨) حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ۔ کہ وہ لوگ جو اللہ کی عظمت کا ذکر کرتے ہیں، اس کی پاکی بیان کرکے۔ اور اس کی تعریف بیان کر کے، اور اس کی بڑائی بیان کر کے اور کلمہ توحید پڑھ کر۔ تو عرش کے نزدیک فرشتے ان سے محبت کرتے ہیں۔ ان کی آواز شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی طرح ہوتی ہے۔ وہ ذکر کرتے ہیں ان کلمات کے پڑھنے والوں کا کیا تم میں سے کوئی ایک بھی اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ ہمیشہ مستقل رحمن کے نزدیک اس وجہ سے اس کا ذکر کیا جائے ؟