(۳۰۰۴۸) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَن مِسْعَرٍ ، عَنْ عَطِیَّۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ : إذَا قَالَ الْعَبْدُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ کَثِیرًا ، قَالَ الْمَلَکُ : کَیْفَ أَکْتُبُ ؟ قَالَ : یقول : اکْتُبْ لَہُ رَحْمَتِی کَثِیرًا ، وَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ : اللَّہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا ، قَالَ الْمَلَکُ : کَیْفَ أَکْتُبُ ؟ قَالَ : اکْتُبْ رَحْمَتِی کَثِیرًا ، وَإِذَا قَالَ : سُبْحَانَ اللہِ کَثِیرًا ، قَالَ الْمَلَکُ : کَیْفَ أَکْتُبُ ؟ قَالَ : اکْتُبْ لہ رَحْمَتِی کَثِیرًا۔
(٣٠٠٤٨) حضرت ابو سعید نے ارشاد فرمایا : جب بندہ کہتا ہے۔ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، تو فرشتہ عرض کرتا ہے، میں کیا لکھوں ؟ راوی کہتے ہیں : اللہ فرماتے ہیں۔ تم اس کے لیے میری ڈھیر ساری رحمت لکھ دو ۔ جب بندہ کہتا ہے اللہ اکبر کبیرا تو فرشتہ کہتا ہے کہ میں کاس لکھوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کے لیے میری بہت ساری رحمت لکھ دو اور جب بندہ کہتا ہے کہ : اللہ تمام عیوب سے پاک ہے ، تو فرشتہ کہتا ہے میں کیا لکھوں ؟ پس ارشاد ہوتا ہے، تم اس کے لیے میری ڈھیر ساری رحمت لکھ دو ۔