(۳۰۰۵۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَن حُسَیْنِ بْنِ ذَکْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ ، عَن بُشَیْرِ بْنِ کَعْبٍ ، عَن شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : سَیِّدُ الاسْتِغْفَارِ أَنْ یَقُولَ : اللَّہُمَّ أَنْتَ رَبِّی وَأَنَا عَبْدُک لاَ إلَہَ إِلاَّ أَنْتَ خَلَقْتنِی وَأَنَا عَبْدُک أَصْبَحْت عَلَی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْت ، أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْت ، أَبُوئُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَأَبُوئُ لَکَ بِذُنُوبِی فَاغْفِرْ لِی ، إِنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ۔
(٣٠٠٥٢) حضرت شداد بن اوس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سید الاستغفار یہ ہے کہ بندہ یوں کہے ! اے اللہ ! تو میرا رب ہے ، اور میں تیرا بندہ ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو نے ہی مجھے پیدا کیا ہے اور میں تیرا ہی بندہ ہوں میں نے صبح کی تیرے وعدے پر اور تیرے عہد پر اپنی استطاعت کے مطابق میں تیری پناہ مانگتا ہوں ان کاموں کے شر سے جو میں نے کیے ہیں، میں اعتراف کرتا ہوں مجھ پر ہونے والی تیری نعمتوں کا ، اور میں تیرے سامنے اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں، پس تو مجھے معاف فرما دے، بیشک تیرے علاوہ کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا۔
بخاری ٦٣٠٦۔ احمد ١٢٢