(۳۰۰۵۳) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنِی کَثِیرُ بْنُ زَیْدٍ ، قَالَ: حدَّثَنِی الْمُغِیرَۃُ بْنُ سَعِیدٍ بْنُ نَوْفَلٍ، عَن شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَہُ: أَلا أَدُلُّک عَلَی سَیِّدِ الاسْتِغْفَارِ؟ أَنْ تَقُولَ: اللہم أَنْتَ إلَہِی لاَ إلَہَ إِلاَّ أَنْتَ ، خَلَقْتنِی وَأَنَا عَبْدُک ، وَأَنَا عَلَی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْت، أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْت وَأَبُوئُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ ، وَأَبُوئُ لَکَ بِذُنُوبِی فَاغْفِرْ لِی فَإِنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ ، مَا مِنْ عَبْدٍ یَقُولُہَا فَیَأْتِیہِ قَدَرُہُ فِی یَوْمِہِ قَبْلَ یُمْسِیَ ، أَوْ فِی مَسَائِہِ قَبْلَ یُصْبِحَ ، إِلاَّ کَانَ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔ (طبرانی ۷۱۸۹)
(٣٠٠٥٣) حضرت شداد بن اوس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہاری سید الاستغفار کے بارے میں راہنمائی نہ فرماؤں ؟ تم یہ کلمات کہہ لیا کرو : اے اللہ ! تو ہی میرا معبود ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے ہی مجھے پیدا کیا ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ اور میں تیرے وعدے اور عہد کو اپنی طاقت کے بقدر پورا کرتا ہوں میں تیری پناہ مانگتا ہوں ان اعمال کے شر سے جو میں نے کیے ہیں، اور میں اعتراف کرتا ہوں مجھ پر ہونے والی تیری نعمتوں کا ، اور میں تیرے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں، پس تو میری مغفرت فرما۔ پس بیشک تیرے سوا کوئی بھی گناہوں کی مغفرت نہیں کرسکتا۔ کوئی بندہ ایسا نہیں کہ وہ ان کلمات کو کہے اس دن میں پس اس کا وقت مقرر شام ہونے سے پہلے اس کے پاس آئے، یا شام میں کہے تو صبح ہونے سے پہلے موت آئے، مگر یہ کہ وہ شخص اہل جنت میں سے ہوگا۔