hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 30082

.

ابن أبي شيبة

30082
Ibn Abi Shaybah
(۳۰۰۸۳) حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، عَنْ أَبِی نَعَامَۃَ السَّعْدِیِّ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : خَرَجَ مُعَاوِیَۃُ عَلَی حَلْقَۃٍ فِی الْمَسْجِدِ فَقَالَ : مَا أَجْلَسَکُمْ قَالُوا : جَلَسْنَا نَذْکُرُ اللَّہَ وَنَحْمَدُہُ عَلَی مَا ہَدَانَا لِلإِسْلامِ وَمَنَّ عَلَیْنَا بِہِ ، قَالَ : آللہِ مَا أَجْلَسَکُمْ إِلاَّ ذَاکَ ، قَالُوا : وَاللہِ مَا أَجْلَسَنَا إِلاَّ ذَاکَ ، فَقَالَ : أَمَّا إنِّی لَمْ أَسْتَحْلِفْکُمْ تُہْمَۃً لَکُمْ ، وَمَا مِنْ أَحَدٍ بِمَنْزِلَۃٍ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ عَنْہُ حَدِیثًا مِنِّی ، وَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَی حَلْقَۃٍ مِنْ أَصْحَابِہِ فَقَالَ : مَا أَجْلَسَکُمْ ؟ فَقَالُوا : جَلَسْنَا نَذْکُرُ اللَّہَ وَنَحْمَدُہُ عَلَی مَا ہَدَانَا لِلإِسْلامِ وَمَنَّ عَلَیْنَا بِہِ ، قَالَ : آللہِ مَا أَجْلَسَکُمْ إِلاَّ ذَاکَ ، قَالُوا : وَاللہِ مَا أَجْلَسَنَا إِلاَّ ذَاکَ ، فَقَالَ : أَمَّا إنِّی لَمْ أَسْتَحْلِفْکُمْ تُہْمَۃً لَکُمْ وَلَکِنِّی أَتَانِی جِبْرِیلُ فَأَخْبَرَنِی ، أَنَّ اللَّہَ یُبَاہِی بِکُمَ الْمَلائِکَۃَ۔ (مسلم ۲۰۷۵۔ ترمذی ۳۳۷۹)
(٣٠٠٨٣) حضرت ابو سعید الخدری ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ مسجد میں لگے ایک حلقہ میں تشریف لائے، پھر فرمانے لگے : کس چیز نے تمہیں یہاں بٹھا رکھا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : ہم اللہ کا ذکر کر رہے ہیں اور اللہ کی تعریف بیان کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کے ذریعہ ہدایت بخشی۔ اور اسلام کے ذریعہ ہم پر احسان فرمایا۔ حضرت معاویہ فرمانے لگے : اللہ کی قسم ! کیا واقعی تم لوگ اس مقصد کے لیے بیٹھے ہو ؟ لوگوں نے کہا ! اللہ کی قسم ! ہم صرف اسی وجہ سے بیٹھے ہیں تو حضرت معاویہ نے ارشاد فرمایا : بہرحال میں نے کسی تہمت کی وجہ سے تمہیں قسم نہیں دی، اور کوئی ایک بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث کے معاملہ میں مجھ سے کم درجہ کا نہیں۔ اور یقیناً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کے ایک حلقہ میں تشریف لائے پھر فرمانے لگے : کس چیز نے تمہیں یہاں بٹھا رکھا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : ہم بیٹھ کر اللہ کا ذکر کر رہے ہیں اور ہم اس کی حمد بیان کر رہے ہیں کہ اللہ نے ہمیں اسلام کی ہدایت عطا فرمائی۔ اور اس کے ذریعہ ہم پر احسان فرمایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! کیا تم لوگ واقعی اس لیے بیٹھے ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کی قسم ! ہم لوگ صرف اسی وجہ سے بیٹھے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یقیناً میں نے کسی تہمت کی وجہ سے تم سے قسم نہیں اٹھوائی۔ لیکن میرے پاس جبرائیل تشریف لائے تھے پس انھوں نے مجھے بتلایا ہے کہ اللہ رب العزت تمہاری وجہ سے ملائکہ کے سامنے فخر فرما رہے ہیں۔