(۳۰۰۹۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، أَنَّ عُمَرَ خَرَجَ یَسْتَسْقِی فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ : {اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ إِنَّہُ کَانَ غَفَّارًا یُرْسِلِ السَّمَائَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا وَیُمْدِدْکُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِینَ وَیَجْعَلْ لَکُمْ جَنَّاتٍ وَیَجْعَلْ لَکُمْ أَنْہَارًا} وَ {اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ إِنَّہُ کَانَ غَفَّارًا} ثُمَّ نَزَلَ فَقِیلَ لَہُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، لَوِ اسْتَسْقَیْت فَقَالَ : لَقَدْ طَلَبْت بِمَجَادِیحِ السَّمَائِ الَّتِی یُسْتَنْزَلُ بِہَا الْقَطْرُ۔
(٣٠٠٩٩) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر پانی کی طلبی کی دعا کے لیے نکلے اور منبر پر چڑھ کر یہ آیات پڑھیں : معافی مانگو اپنے رب سے ، یقیناً وہ بہت زیادہ معاف فرمانے والا ہے، وہ برسائے گا تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش اور نوازے گا تمہیں مال و اولاد سے اور پیدا کرے گا تمہارے لیے باغ اور جاری کر دے گا تمہارے لیے نہریں، اور معافی مانگو اپنے رب سے، پھر آپ منبر سے نیچے اتر آئے۔ پس آپ سے کہا گیا : اے امیر المؤمنین ! اگر آپ بارش بھی مانگتے تو اچھا ہوتا، تو آپ نے فرمایا : البتہ تحقیق میں نے آسمان کے نچھتر کے ذریعہ پانی طلب کیا ہے جس کے ذریعہ پانی کے قطرے اتارے جاتے ہیں۔