(۳۰۱۰۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَن مُسْلِمٍ ، عَن مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعَوِّذُ بِہَذِہِ الْکَلِمَاتِ : أَذْہِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لاَ شِفَائَ إِلاَّ شِفَاؤُک شِفَائً لاَ یُغَادِرُ سَقَمًا ، قَالَتْ : فَلَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ أَخَذْت بِیَدِہِ فَجَعَلْتُ أَمْسَحُہَا وَأَقُولُہَا ، قَالَتْ : فَنَزَعَ یَدَہُ مِنْ یَدَیْ ، وَقَالَ : اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی وَأَلْحِقْنِی بِالرَّفِیقِ ، قَالَتْ : فَکَانَ ہَذَا آخِرَ مَا سَمِعْت مِنْ کَلامِہِ۔
(٣٠١٠٢) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کلمات کے ذریعہ تعویذ (دم) کرتے تھے۔ ” لوگوں کے رب تکلیف کو دور فرما۔ تو شفا دے اور تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں ہے ایسی شفا دے کہ کوئی بیماری باقی نہ رہے۔ “ حضرت عائشہ فرماتی ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مرض بڑھ گیا جس مرض میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تھی تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ پکڑتی، پس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ کو ہی آپ کے جسم پر پھیرتی رہتی تھیں اور یہ دعا پڑھتی رہتی تھی : فرماتی ہیں : کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑایا اور یہ دعا پڑھی : اے اللہ ! تو مجھے معاف فرما۔ مجھے رفیق سے ملا دے ، حضرت عائشہ فرماتی ہیں ! یہ آخری بات تھی جو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کلام سے سنی تھی۔