hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 30121

.

ابن أبي شيبة

30121
Ibn Abi Shaybah
(۳۰۱۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَن صُہَیْبٍ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا صَلَّی ہَمَسَ شَیْئًا لاَ یُخْبِرُنَا بِہِ ، فقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّک مِمَّا إذَا صَلَّیْت ہَمَسْت شَیْئًا لاَ نَفْقَہُہُ ، قَالَ ، فَطِنْتُمْ بِی ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : ذَکَرْت نَبِیًّا مِنَ الأَنْبِیَائِ أُعْطِیَ جُنُودًا مِنْ قَوْمِہِ ، فَنَظَرَ إِلَیْہِمْ ، فَقَالَ : مَنْ یُکَافِئُ ہَؤُلائِ ، قَالَ : فَقِیلَ لَہُ : اخْتَرْ لِقَوْمِکَ إحْدَی ثَلاثٍ : إمَّا أَنْ یُسَلِّطَ عَلَیْہِمْ عَدُوًّا مِنْ غَیْرِہِمْ ، أَوِ الْجُوعَ ، أَوِ الْمَوْتَ ، قَالَ : فَعَرَضَ ذَلِکَ عَلَی قَوْمِہِ ، قَالَ : فَقَالُوا : أَنْتَ نَبِیُّ اللہِ فَاخْتَرْ لَنَا ، قَالَ : فَقَامَ إِلَی الصَّلاۃِ ، قَالَ : وَکَانُوا مِمَّا إذَا فَزِعُوا فَزِعُوا إِلَی الصَّلاۃِ فَصَلَّی فَقَالَ : اللَّہُمَّ أما أن تُسَلِّطْ عَلَیْہِمْ مِنْ غَیْرِہِمْ فَلا ، أَو الْجُوعُ فَلا ، وَلَکِنَّ الْمَوْتَ ، قَالَ : فَسَلَّطَ عَلَیْہِمَ الْمَوْتَ ، فَمَاتَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا فِی ثَلاثَۃِ أَیَّامٍ ، قَالَ : فَہَمْسِی الَّذِی تَسْمَعُونَ أنی أَقُولُ : اللَّہُمَّ بِکَ أُحَاوِلُ وَبِکَ أُصَاوِلُ ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّۃَ إِلاَّ بِکَ۔ (نسائی ۱۰۴۵۰۔ احمد ۳۳۳)
(٣٠١٢٢) حضرت صھیب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز پڑھتے تو آہستہ سے کچھ کہتے جس کے بارے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نہیں بتلایا تھا۔ پس ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بلاشبہ ابھی جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھی ہے تو آہستہ سے کچھ کہا جس کو ہم نہیں سمجھ سکے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمانے لگے، کیا تم نے میرے پڑھنے کو جان لیا ؟ ہم نے کہا ! جی ہاں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے انبیاء میں سے ایک نبی کا قصہ یاد آگیا۔ جن کی قوم کے لشکر کو ان کا تابع بنادیا گیا تھا، پس انھوں نے اس لشکر کی طرف دیکھ کر فرمایا : کون ہے جو اس سے بدلہ لے سکتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پس ان سے کہا گیا : آپ اپنی قوم کے لیے تین میں سے ایک بات منتخب کریں : یا تو ان پر کسی غیر دشمن کو مسلط کردیا جائے، یا پھر بھوک و فاقہ یا پھر موت ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : انھوں نے اپنی قوم پر یہ تینوں چیزیں پیش کیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کی قوم نے کہا : آپ اللہ کے نبی ہیں آپ ہی ہمارے لیے کوئی ایک منتخب فرما لیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پس وہ نماز کے لیے کھڑے ہوگئے۔ یہ بھی فرمایا : جب وہ لوگ کسی چیز سے ڈرتے تو وہ نماز کی پناہ پکڑتے تھے۔ پس ان نبی نے نماز پڑھی، پھر یوں فرمایا : اے اللہ ! یا تو آپ نے ان پر دشمن کو مسلط فرمانا تھا پس آپ ایسا مت کریں یا پھر بھوک تو وہ بھی نہیں، لیکن موت عطا کر دے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کی قوم پر موت کو مسلط کردیا گیا۔ پس ان کی قوم کے تین دنوں میں ستر ہزار افراد موت کی وادی میں سو گئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پس میں آہستہ سے جو پڑھ رہا تھا جو تم نے سنا میں یہ دعا پڑھ رہا تھا۔ اے اللہ ! میں آپ کی مدد سے سے ہی تدبیر کروں گا، اور آپ کی مدد سے ہی حملہ کروں گا، اور ایسا کرنے کی طاقت نہیں سوائے تیری مدد کے۔