(۳۰۱۳۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیِّ ، عَن رَجُلٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : کَانَ یَقُولُ : اللَّہُمَّ یَا دَاحِیَ الْمَدحُوَّاتِ وَیَا بَانِیَ الْمَبْنِیَّاتِ وَیَا مُرْسِیَ الْمُرَسِّیَاتِ ، وَیَا جَبَّارَ الْقُلُوبِ عَلَی فِطْرَتِہَا شَقِیِّہَا وَسَعِیدِہَا ، وَبَاسِطَ الرَّحْمَۃِ لِلْمُتَّقِینَ ، اجْعَلْ شَرَائِفَ صَلَوَاتِکَ وَنَوَامِی بَرَکَاتِکَ وَرَأْفَاتِ تحننک ، وَعَوَاطِفَ زَوَاکِی رَحْمَتِکَ عَلَی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُولِکَ ، الْفَاتِحِ لِمَا أُغْلِقَ ، وَالْخَاتَمِ لِمَا سَبَقَ وَفَالِجِ الْحَقِّ بِالْحَقِ ، وَدَامِغِ جَاشِیَاتِ الأَبَاطِیلِ کَمَا حَمَّلْتَہُ ، فَاضْطَلَعَ بِأَمْرِکَ مُسْتَنْصِرًا فِی رِضْوَانِکَ غَیْرَ نَاکِلٍ عَن قَدَمٍ ، وَلا مُثْنِی عَنْ عَزْمٍ ، حَافِظٍ لِعَہْدِکَ ، مَاضٍ لِنَفَاذِ أَمْرِکَ ، حَتَّی أَورَی قبسا لقلبس آلاء اللہ تصل بآلہ أسبابہ بہ ہُدِیت الْقُلُوبِ ، بَعْدَ خَوْضَاتِ الْفِتَنِ والأثم وأنہج موضحات الأعلام إِلَی ودائرات الأَحْکَامِ ، فَہُوَ أَمِینُک الْمَأْمُونُ ، وَشَاہِدُک یَوْمَ الدِّینِ ، وَبَعِیثُکَ رَحْمَۃً لِلْعَالَمِینَ ، اللَّہُمَّ افْسَحْ لَہُ مُفْسَحًا عِنْدَکَ ، وَأَعْطِہِ بَعْدَ رِضَاہُ الرِّضَی مِنْ فَوْزِ ثَوَابِکَ الْمَحْلُولِ ، وَعَظِیمِ جَزَائِکَ الْمَعْلُولِ ، اللَّہُمَّ أَتْمِمْ لَہُ مَوْعِدَک بِابْتعَاثِکَ إیَّاہُ مَقْبُولَ الشَّفَاعَۃِ عَدْلَ الشَّہَادَۃِ مَرَضِیَّ الْمَقَالَۃِ ذَا مَنْطِقٍ عَدْلٍ وَخَطِیبٍ فَصْلٍ ، وَحُجَّۃٍ وَبُرْہَانٍ عَظِیمٍ ، اللَّہُمَّ اجْعَلْنَا سَامِعِینَ مُطِیعِینَ وَأَوْلِیَائَ مُخْلِصِینَ وَرُفَقَائَ مُصَاحِبِینَ ، اللَّہُمَّ أبْلِغْہُ مِنَّا السَّلامَ ، وَارْدُدْ عَلَیْنَا مِنْہُ السَّلامَ۔
(٣٠١٣٤) حضرت عبداللہ اسدی ایک شخص سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی یوں دعا فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! اے بچھانے والے بچھی ہوئی زمینوں کے، عمارتوں کی تعمیر کرنے والے، پہاڑوں کے گاڑنے والے، اور دلوں کو بزور بنانے والے اس کی فطرت پر ان کے بدبخت ہونے کو اور نیک بخت ہونے کو، اور متقیوں اور پرہیزگاروں کے لیے رحمت کو کشادہ کرنے والے، نازل فرما اپنی بزرگ ترین خاصی رحمتیں اور بڑھنے والی برکتیں، اور اپنی بڑی مہربانی کو، اور اپنی پاکیزہ، مہربان رحمتوں کو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اور کھولنے والے ہیں اس سعات کو جو بند کردی گئی ، اور مکمل کرنے والے ہیں اس دین کو جو غالب آگیا، اور حق کو غالب کرنے والے ہیں سلامتی کے ساتھ، اور توڑنے والے ہیں ان لشکروں کے جو ناحق پر ہیں جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو برانگیختہ کیا ان کے توڑنے پر پس مستعد ہوگئے تیرے حکم سے، مدد طلب کرنے والے تیری رضا مندی میں ، بلاقید کے پنیر میں، اور بلا سستی کے ارادے میں ( یعنی لشکر کفار کے توڑنے میں اٹھنے کے لیے آپ نے کوتاہی نہیں کی) نگاہ رکھنے والے تیری وحی کی طرف، حفاظت کرنے والے تیرے عصب (کے) تیرے حکم کے نفاذ پر وقت گزارنے والے، یہاں تک کہ روشن کردیا اسلام کے شعلہ نور کو روشنی لینے والوں کے لیے، اللہ کی نعمتیں ملا دیتی ہیں اس کے اسباب کو ان سے جو اس مشغلہ کے اھل لوگ ہیں ( یعنی وہ فائدہ اٹھا لیتے ہیں) آپ ہی کے سبب سے ہدایت ملی دلوں کو، ان کے فتنوں اور گناہوں میں ڈوب جانے کے بعد، اور آپ نے ظاہر کرنے والی نشانیوں کو مزید واضح کیا، اور اسلام کے چمکدار حکموں کو ، اور اسلام کی روشنیوں کو ، پس آپ ہی تیرے بھروسہ کے قابل امانت دار ہیں، اور آپ ہی قیامت کے دن تیرے گواہ ہیں، اور تیری بھیجی ہوئی رحمت میں تمام جہان والوں کے لیے، اے اللہ ! کشادہ کر دے ان کی جگہ اپنے پاس اور ان کو عطا فرما اپنی رضا مندی کے بعد ایسی رضا مندی جو تیرے اجر کی کامیابی کی طرف سے ہو، اور تیری عظیم جزا جو کہ کسی وجہ سے ملتی ہے اس کی طرف سے، اے اللہ، تو ان سے کیے جانے والے اپنے وعدے کو پورا فرما، ان کو مبعوث فرما کر شفاعت کیے جانے والے مقام پر، انصاف کی گواہی مقبول کر کے، اور آپ کے ہر قول کو اپنی رضا مندی کے موافق کر کے، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صاحب انصاف بنا کر، اور آپ کو ایسا خطیب بنا کر جو حق و باطل مں ر فرق کرنے والا ہو، اور بڑی حجت والا بنا کر۔ اے اللہ ! ہمیں بنا دے سننے والوں میں سے (پھر) فرمان برداری کرنے والوں میں سے، اور مخلص لوگوں کے دوستوں میں سے، اور اپنے ساتھیوں کے رفقاء میں سے، اے اللہ ! تو پہنچا دے ان کو ہماری طرف سے سلامتی، اور لوٹا دے ان کی طرف سے ہم پر سلامتی۔