(۳۰۲۱۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ مُسْلِمٍ الطَّحَّانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، قَالَ : کَانَ نَفَرٌ مُتَوَاخِینَ ، قَالَ : فَفَقَدُوا رَجُلاً مِنْہُمْ أَیَّامًا ، ثُمَّ أَتَاہُمْ فَقَالُوا : أَیْنَ کُنْت ؟ فَقَالَ : دَیْنٌ کَانَ عَلَیَّ فَقَالَ : ہَلاَّ دَعَوْت بہَؤُلائِ الدَّعَوَاتِ : اللَّہُمَّ مُنَفِّسَ کُلِّ کَرْبٍ وَفَارِجَ کُلِّ ہَمٍّ وَکَاشِفَ کُلِّ غَمٍّ وَمُجِیبَ دَعْوَۃِ الْمُضْطَرِّینَ رَحْمَنَ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ وَرَحِیمَہُمَا ، أَنْتَ رَحْمَانِی فَارْحَمْنِی یَا رَحْمَنُ رَحْمَۃً تُغْنِینِی بِہَا عَن رَحْمَۃِ مَنْ سِوَاک۔
(٣٠٢١٤) حضرت عبد الرحمن بن سابط فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ آپس میں بھائی بھائی بن گئے تھے، راوی کہتے ہیں : پھر ان لوگوں نے اپنے ایک ساتھی کو کچھ دن گم پایا پھر وہ واپس آگیا، انھوں نے پوچھا : تم کہاں تھے ؟ پس وہ کہنے لگا ! مجھ پر قرض تھا ۔ تو ایک شخص نے کہا : تم نے ان کلمات کے ذریعہ دعا کیوں نہ مانگی ؟ اے اللہ ! غموں کے دور کرنے والے، اور مصیبت کے دور کرنے والے، اور ہر غم کو ہٹانے والے ، اور مجبوروں کی پکار کا جواب دینے والے، دنیا اور آخرت کے رحمن، اور ان دونوں کے رحیم، تو ہی میرا رحمن ہے، پس مجھ پر رحم فرما، اے رحمن ! ایسی رحمت کہ جس کے ذریعہ میں تیرے علاوہ کی رحمت سے بےنیاز ہو جاؤں !