(۳۰۲۱۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَن لَیْثٍ ، عَن مُجَاہِدٍ ، عَن تُبَیْعٍ ، عَن کَعْبٍ ، قَالَ : لَوْلا کَلِمَاتٌ أَقُولُہُنَّ لَجَعَلَتْنِی الْیَہُودُ أَصِیحُ مَعَ الْحُمْرِ النَّاہِقَۃِ وَأَعْوِی مَعَ الْکِلابِ الْعَاوِیَۃِ ، أَعُوذُ بِوَجْہِکَ الْکَرِیمِ وَبِاسْمِکَ الْعَظِیمِ وَبِکَلِمَاتِکَ التَّامَّۃِ الَّتِی لاَ یُجَاوِزُہُنَّ بَرٌّ ، وَلا فَاجِرٌ ، الَّذِی لاَ یَخْفِرُ جَارُہُ مِنْ شَرِّ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَائِ ، وَمَا یَعْرُجُ فِیہَا ، وَمِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ۔
(٣٠٢١٧) حضرت تبیع فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا : اگر یہ کلمات نہ ہوتے جن کو میں پڑھتا ہوں تو یہود مجھے ایسا بنا دیتے کہ میں چیخنے والے گدھوں کے ساتھ چیختا اور بھونکنے والے کتوں کے ساتھ میں بھونکتا : وہ کلمات یہ ہیں، میں پناہ مانگتا ہوں تیرے اس معزز چہرے کی، اور تیرے عظیم نام کی، اور تیرے مکمل کلمات کی جن سے کوئی نیک اور بدکار تجاوز نہیں کرسکتا ، اور جس کے پڑوسی کو پناہ نہیں دی جاتی، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترتی ہے اور جو چیز آسمان میں بلند ہوتی ہے۔ اور اس چیز کے شر سے جس کو اس نے تخلقر کیا، وجود بخشا اور پیدا کیا۔