(۳۰۲۲۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، قَالَ : حدَّثَنِی عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، أَنَّ رَجُلاً أَتَی ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ : إنِّی أُرِیدُ سَفَرًا فَأَوْصِنِی ، فَقَالَ : إذَا تَوَجَّہْت فَقُلْ : بِسْمِ اللہِ حَسْبِی اللَّہُ وَتَوَکَّلْت عَلَی اللہِ فَإِنَّک إذَا قُلْتَ : بِسْمِ اللہِ ، قَالَ الْمَلَکُ : ہُدِیْتَ وَإِذَا قُلْتَ : حَسْبِی اللَّہُ ، قَالَ الْمَلَک ، حُفِظْت ، وَإِذَا قُلْتَ : تَوَکَّلْت عَلَی اللہِ ، قَالَ الْمَلَکُ : کُفِیت۔
(٣٠٢٢٥) حضرت عون بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا : میرا سفر کا ارادہ ہے پس آپ مجھے وصیت فرما دیجئے، تو آپ نے ارشاد فرمایا : جب تو سفر کے لیے متوجہ ہو تو یہ کلمات کہہ : اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں، مجھے اللہ کافی ہے، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، پس جب تو کہے گا اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں تو فرشتہ کہے گا، تجھے ہدایت دی گئی، اور جب تو کہے گا، مجھے اللہ کافی ہے، تو فرشتہ کہے گا، تیری حفاظت کی گئی، ، اور جب تو کہے گا، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا تو فرشتہ کہے گا، تیری کفایت کی گئی۔