(۳۰۲۲۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَن مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانُوا یَقُولُونَ فِی السَّفَرِ : اللَّہُمَّ بَلاغًا یُبَلِّغُ خَیْرًا مَغْفِرَتِکَ مِنْک وَرِضْوَانًا ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ ، إنَّک عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ، اللَّہُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیفَۃُ عَلَی الأَہْلِ ، اللَّہُمَّ اطْوِ لَنَا الأَرْضَ وَہَوِّنْ عَلَیْنَا السَّفَرَ ، اللَّہُمَّ إنَّا نَعُوذُ بِکَ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ وَکَآبَۃِ الْمُنْقَلَبِ وَسُوئِ الْمَنْظَرِ فِی الأَہْلِ وَالْمَالِ۔
(٣٠٢٢٦) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ صحابہ سفر میں یوں دعا فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! خیر کو پہنچا ایسی خیر جس میں تیری طرف سے مغفرت ہو اور تیری رضا ہو، خیر تیرے ہی قبضہ میں ہے، یقیناً تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ، اے اللہ ! تو ہی سفر میں ہمارا ساتھی ہے۔ اور گھر والوں پر ہمارا خلیفہ ہے۔ اے اللہ ! ہمارے لیے زمین کی دوری کو ختم فرما، اور ہم پر سفر کو آسان فرما، اے اللہ ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں سفر کی مشقت سے، اور غم گین لوٹنے سے اور گھر اور مال میں بُرا منظر دیکھنے سے۔