(۳۰۲۳۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَن زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَن مُصْعَبٍ ، عَن یَحْیَی بْنِ جَعْدَۃَ ، قَالَ : کَانَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ یَفْزَعُ مِنَ اللَّیْلِ حَتَّی یَخْرُجَ ، وَمَعَہُ سَیْفُہُ فَخُشِیَ عَلَیْہِ أَنْ یُصِیبَ أَحَدًا ، فَشَکَا ذَلِکَ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إنَّ جِبْرِیلَ ، قَالَ لِی : إنَّ عِفْرِیتًا مِنَ الْجِنِّ یَکِیدُک ، فَقُلْ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّۃِ الَّتِی لاَ یُجَاوِزُہُنَّ بَرٌّ ، وَلا فَاجِرٌ ، مِنْ شَرِّ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَائِ ، وَمَا یَعْرُجُ فِیہَا ، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِی الأَرْضِ ، وَمَا یَخْرُجُ مِنْہَا ، وَشَرِّ فِتَنِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ ، وَکُلِّ طَارِقٍ إِلاَّ طَارِقًا یَطْرُقُ بِخَیْرٍ یَا رَحْمَنُ فَقَالَہُنَّ خَالِدٌ فَذَہَبَ ذَلِکَ عَنْہُ۔
(٣٠٢٣٦) حضرت یحییٰ بن جعدہ فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رات سے ڈرتے تھے، یہاں تک کہ وہ نکلے اس حال میں کہ ان کے پاس تلوار تھی۔ پس ان پر خوف طاری ہوگیا کہ وہ کسی کو تکلیف پہنچا دیں گے پس انھوں نے اس بات کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جبرائیل نے مجھ سے فرمایا ہے : کہ جنوں کی ایک جماعت تیرے ساتھ مکر و فریب کرتی ہے، پس تو یہ کلمات پڑھ لے : میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ کہ جن سے کوئی نیکو کار اور بدکار تجاوز نہیں کرسکتا، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے اور جو آسمان میں بلند ہوتی ہے، اور اس چیز کے شر سے جو زمین میں پیدا ہوتی ہے اور جو زمین سے نکلتی ہے، اور دن اور رات کے فتنوں کے شر سے، اور ہر رات کو آنے والے سے مگر جو خیر لائے، اے رحم کرنے والے، پس حضرت خالد نے ان کلمات کو پڑھا، تو ان کی یہ حالت ختم ہوگئی۔