(۳۰۲۳۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّیَّاحِ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ عَبْدَ اللہ بْنَ خَنْبَش : کَیْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ کَادَتْہُ الشَّیَاطِینُ ؟ قَالَ : جَائَتِ الشَّیَاطِینُ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الأَوْدِیَۃِ ، وَتَحَدَّرَتْ عَلَیْہِ مِنَ الْجِبَالِ ، وَفِیہِمْ شَیْطَانٌ مَعَہُ شُعْلَۃُ نَارٍ یُرِیدُ أَنْ یَحْرِقَ بِہَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأُرْعِبَ مِنْہُمْ ، قَالَ جَعْفَرٌ : أَحْسَبُہُ ، قَالَ : جَعَلَ یَتَأَخَّرُ ، قَالَ : وَجَائَہُ جِبْرِیلُ فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ ، قُلْ ، قَالَ : مَا أَقُولُ ؟ قَالَ : قُلْ : أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّاتِ الَّتِی لاَ یُجَاوِزُہُنَّ بَرٌّ ، وَلا فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ ، وَمِنْ شَرِّ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَائِ ، وَمِنْ شَرِّ مَا یَعْرُجُ فِیہَا ، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِی الأَرْضِ وَمِنْ شَرِّ مَا یَخْرُجُ مِنْہَا وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ ، وَمِنْ شَرِّ کُلِّ طَارِقٍ إِلاَّ طَارِقًا یَطْرُقُ بِخَیْرٍ یَا رَحْمَنُ ، قَالَ : فَطُفِئَتْ نَارُ الشَّیْطَانِ ، قَالَ : وَہَزَمَہُمَ اللَّہُ۔
(٣٠٢٣٨) حضرت ابو التیاح فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن خنبش سے سوال کیا : جب شیاطین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دھوکا دیتے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کرتے تھے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ایک مرتبہ کچھ شیاطین وادیوں سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، اور پہاڑ سے اتر کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگئے، اس حال میں کہ ان میں ایک شیطان تھا جس کے پاس ایک انگارہ تھا، اس کا ارادہ تھا کہ اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جلا دے گا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ان کا رعب طاری ہوگیا، حضرت جعفر فرماتے ہیں : میرا گمان ہے کہ راوی نے کہا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیچھے ہٹنے لگے۔ راوی فرماتے ہیں : کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حضرت جبرائلب حاضر ہوئے۔ اور فرمایا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ پڑھیے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : میں کیا پڑھوں ؟ حضرت جبرائیل نے ارشاد فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پڑھیے ! میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ جن سے کوئی نیکو کار اور بدکار تجاوز نہیں کرسکتا، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ، جس کو وجود بخشا اور جسے پیدا کیا اور ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان میں بلند ہوتی ہے، اور اس چیز کے شر سے جو زمین میں پیدا ہوتی ہے، اور اس چیز کے شر سے جو زمین سے نکلتی ہے، اور دن اور رات کے فتنوں کے شر سے، اور ہر رات کو نمودار ہونے والی چیز کے شر سے مگر جو رات کو خیر لائے، اے رحمن ! راوی کہتے ہیں پس شیاطین کی آگ کو بجھا دیا گیا، کہتے ہیں پس اللہ نے ان شیاطین کو شکست دی۔