(۳۰۳۳۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُصَیْنٌ ، قَالَ : صَلَّیْت الْغَدَاۃَ ذَاتَ یَوْمٍ وَصَلَّی خَلْفِی عُثْمَانُ بْنُ زِیَادٍ ، قَالَ : فَقَنَتُّ فِی صَلاۃِ الصُّبْحِ ، قَالَ : فَلَمَّا قَضَیْت صَلاتِی ، قَالَ لِی : مَا قُلْتَ فِی قُنُوتِکَ ؟ فَقُلْتُ : ذَکَرْت ہَؤُلائِ الْکَلِمَاتِ : اللَّہُمَّ إنَّا نَسْتَعِینُک وَنَسْتَغْفِرُک وَنُثْنِی عَلَیْک الْخَیْرَ ، وَلا نَکْفُرُک ، وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَفْجُرُکَ ، اللَّہُمَّ إیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَک نُصَلِّی وَنَسْجُدُ ، وَإِلَیْک نَسْعَی وَنَحْفِدُ ، وَنَرْجُو رَحْمَتَکَ وَنَخْشَی عَذَابَک الجد ، إنَّ عَذَابَک بِالْکَافِرِینَ مُلْحَقٌ ، قَالَ : قَالَ لِی عُثْمَانُ : کَذَا کَانَ یَصْنَعُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ۔
(٣٠٣٣٤) حضرت ھشیم فرماتے ہیں کہ حضرت حصین نے فرمایا : میں نے ایک دن صبح کی نماز پڑھائی، اور عثمان بن زیاد نے میرے پیچھے نماز پڑھی آپ فرماتے ہیں، میں نے صبح کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی : فرماتے ہیں کہ جب میری نماز مکمل ہوئی تو عثمان بن زیاد نے مجھ سے کہا : آپ نے قنوت میں کون سی دعا پڑھی ؟ تو میں نے کہا : میں نے یہ کلمات ذکر کیے : اے اللہ ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور ہم تجھ سے معافی مانگتے ہیں۔ اور ہم تیری بہت اچھی تعریف کرتے ہیں اور ہم تیری ناشکری نہیں کرتے۔ اور ہم الگ ہوتے اور چھوڑتے ہیں اس شخص کو جو تر ی نافرمانی کرے ۔ اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔ اور تیرے ہی لیے نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں۔ اور ہم تیری طرف ہی دوڑتے ہیں اور تیری خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔ اور ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور ہم تیرے سخت عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بیشک تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔ حضرت حصین فرماتے ہیں ! کہ عثمان بن زیاد نے مجھے کہا : حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عثمان بن عفان دونوں ایسے ہی کیا کرتے تھے۔