(۳۰۳۷۴) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ أَبِی الأَشْہَبِ ، عَن رَجُلٍ مِنْ مُزَیْنَۃَ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأَی عَلَی عُمَرَ ثَوْبًا غَسِیلاً فَقَالَ : أجَدِیدٌ ثَوْبُک ہَذَا ؟ قَالَ : غَسِیلٌ یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْبَسْ جَدِیدًا وَعِشْ حَمِیدًا وَتَوَفَّ شَہِیدًا یُعْطِکَ اللَّہُ قُرَّۃَ عَیْنٍ فِی الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ۔
(٣٠٣٧٤) قبیلہ مزینہ کے ایک آدمی نقل کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر کو دھلا ہوا کپڑا پہنے ہوئے دیکھا، تو ارشاد فرمایا : کیا تمہارے یہ کپڑے نئے ہیں ؟ حضرت عمر نے فرمایا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دھلے ہوئے ہیں۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نیا کپڑا پہنو، اور شکر کرتے ہوئے زندگی گزارو، اور شہید ہو کر وفات پاؤ، اللہ تمہیں دنیا اور آخرت میں آنکھ کی ٹھنڈک نصیب کرے۔