(۳۰۴۷۲) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَن حَجَّاجٍ ، عَن عُمَیْرِ بْنِ سَعِیدٍ ، أَنَّ عَلِیًّا کَبَّرَ عَلَی یَزِیدَ بْنِ مُکَفَّفٍ أَرْبَعًا ، ثُمَّ قَامَ عَلَی الْقَبْرِ فَقَالَ : اللَّہُمَّ عَبْدُک ، وَابْنُ عَبْدِکَ نَزَلَ بِکَ الْیَوْمَ ، وَأَنْتَ خَیْرُ مَنْزُولٍ بِہِ ، اللَّہُمَّ وَسِّعْ لَہُ مُدْخَلَہُ وَاغْفِرْ لَہُ ذَنْبَہُ فَإِنَّا لاَ نَعْلَمُ إِلاَّ خَیْرًا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ۔
(٣٠٤٧٢) حضرت عمیر بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے یزید بن مکفف کے جنازہ پر چار تکبیریں پڑھیں، پھر آپ نے اس کی قبر پر کھڑے ہو کر یوں دعا فرمائی ! اے اللہ ! یہ تیرا بندہ ہے اور تیرے بندے کا بیٹا ہے۔ آج یہ تیرا مہمان بنا ہے اور تو بہترین مہمان نواز ہے۔ اے اللہ ! اس کی قبر کو کشادہ کر دے، اور اس کے گناہ کو معاف فرما دے۔ پس بیشک ہم نہیں جانتے مگر بھلائی اور تو اس بارے میں زیادہ جاننے والا ہے۔