(۳۰۶۲۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ: حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْوَلِیدِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ أَیُّوبَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِی أَبُو إیَاسٍ مُعَاوِیَۃُ بْنُ قُرَّۃَ ، قَالَ: کُنْتُ نَازِلاً عَلَی عَمْرِو بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، فَلَمَّا حَضَرَ رَمَضَانُ جَائَہُ رَجُلٌ بِأَلْفَیْ دِرْہَمٍ مِنْ قِبَلِ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَیْرِ فَقَالَ: إنَّ الأَمِیرَ یُقْرِئُک السَّلامَ ، وَیَقُولُ: إنَّا لَمْ نَدَعَ قَارِئًا شَرِیفًا إِلاَّ وَقَدْ وَصَلَ إلَیْہِ مِنَّا مَعْرُوفٌ ، فَاسْتَعِنْ بِہَذَیْنِ عَلَی نَفَقَۃِ شَہْرِکَ ہَذَا ، فَقَالَ عَمْرٌو: اقْرَأْ عَلَی الأَمِیرِ السَّلامَ وَقُلْ لَہُ: إنا وَاللہ مَا قَرَأْنَا الْقُرْآنَ نُرِیدُ بِہِ الدُّنْیَا ، وَرُدَّہ عَلَیْہِ۔
(٣٠٦٢٧) حضرت ابو ایاس معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمرو بن نعمان بن مقرن کے ہاں مہمان تھا، پس جب رمضان کا مہینہ آیا تو حضرت مصعب بن زبیر کی طرف سے ایک آدمی دو ہزار درہم لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : بیشک امیر نے آپ کو سلام کہا ہے اور فرمایا ہے : یقیناً ہم نے کسی بھی نیک پڑھنے والے کو نہیں چھوڑا مگر یہ کہ اس کو ہماری طرف سے کچھ مال مل گیا۔ پس آپ ان روپوں کو اس مہینہ کے خرچ میں استعمال کیجئے۔ تو حضرت عمرو نے فرمایا : امیر کو سلام کہیے گا اور ان سے کہنا : بیشک اللہ کی قسم ہم قرآن کو دنیا کی غرض سے نہیں پڑھتے ۔ اور آپ نے یہ ہدیہ واپس بھیج دیا۔