(۳۰۷۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عُمَر بْنِ حَمْزَۃَ ، عَن سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَأَلَنِی عُمَرُ ، کَمْ مَعَک مِنَ الْقُرْآنِ ؟ قُلْتُ: عَشْرُ سُوَرٍ ، فَقَالَ لِعُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ: کَمْ مَعَک مِنَ الْقُرْآنِ ؟ قَالَ: سُورَۃٌ ، قَالَ عَبْدُ اللہِ: فَلَمْ یَنْہَنَا وَلَمْ یَأْمُرْنَا غَیْرَ ، أَنَّہُ قَالَ: فَإِنْ کُنْتُمْ مُتَعَلِّمِینَ مِنْہُ بِشَیْئٍ فَعَلَیْکُمْ بِہَذَا الْمُفَصَّلِ فَإِنَّہُ أَحْفَظُ۔
(٣٠٧١٩) حضرت سالم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے ارشاد فرمایا : مجھ سے حضرت عمر نے پوچھا : تمہیں کتنا قرآن یاد ہے ؟ میں نے کہا : ایک سورت، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : پھر نہ انھوں نے ہمیں کسی کام کا حکم دیا اور نہ ہی کسی کام سے منع کیا سوائے اس بات کے کہ انھوں نے کہا : پس اگر تم قرآن میں سے کچھ سیکھو تو تم پر یہ مفصل سورتیں لازم ہیں۔ اس لیے کہ یہ زیادہ محفوظ رہتی ہیں۔