(۳۰۷۲۰) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ سیرین قَالَ: لاَ تقل سورۃ قصیرۃ ، ولا سورۃ خفیفۃ ، قَالَ فکیف أقول ؟ قَالَ: سورۃ یسیرۃ ؛ فإن اللہ تبارک وتعالی قَالَ: {وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِن مُّدَّکِرٍ} ولا تقل خفیفۃ ؛ فإن اللہ قَالَ {سَنُلْقِی عَلَیْکَ قَوْلاً ثَقِیلاً}۔
(٣٠٧٢٠) حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین نے ارشاد فرمایا : تم یوں مت کہو : چھوٹی سورت اور نہ ہی یوں کہو : ہلکی سورت۔ راوی کہتے ہیں : میں نے پوچھا : پھر میں کیسے کہوں ؟ آپ نے فرمایا : ایسے کہو ! آسان سورت۔ اس لیے کہ اللہ نے ارشاد فرمایا : اور بلاشبہ ہم نے آسان بنادیا اس قرآن کو نصیحت کے لیے، سو کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ اور ایسے بھی مت کہو ؟ ہلکی سورت : اس لیے کہ اللہ نے فرمایا ہے : ہم نازل کرنے والے ہیں تم پر ایک بھاری کلام۔