(۳۰۸۲۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَن سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَن زِیَادِ بْنِ لَبِیدٍ ، قَالَ: ذَکَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْئًا فَقَالَ: وَذَاکَ عِنْدَ أَوانِ ذَہَابِ الْعِلْمِ ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللہِ ، کَیْفَ یَذْہَبُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُہُ أَبْنَائَنَا وَیُقْرِئُہُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَائَہُمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ، قَالَ: ثَکِلَتْک أُمُّک زِیَادُ ، إِنْ کُنْت لأرَاک مِنْ أَفْقَہِ رَجُلٍ بِالْمَدِینَۃِ ، أَو لَیْسَ ہَذِہِ الْیَہُودُ وَالنَّصَارَی یَقْرَؤُونَ التَّوْرَاۃَ وَالإِنْجِیلَ، لاَ یَعْمَلُونَ بِشَیْئٍ مِمَّا فِیہِمَا۔ (احمد ۱۶۰۔ طبرانی ۵۲۹۱)
(٣٠٨٢٥) حضرت زیاد بن لبید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چند فتنوں کا ذکر کیا : پھر فرمایا : یہ سب علم کے اٹھ جانے کے وقت ہوگا، راوی فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! علم کیسے اٹھ جائے گا حالانکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنی اولادوں کو پڑھاتے ہیں اور آگے وہ اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے ، یوں سلسلہ قیامت تک جاری رہے گاَ ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تیری ماں تجھے گم پائے اے زیاد ! میں تو تجھے مدینہ میں سب سے سمجھ دار آدمی سمجھتا تھا ! کیا یہ یہود و نصاریٰ توراۃ اور انجیل نہیں پڑھتے اور یہ لوگ ان میں پائی جانے والی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے ؟