(۳۰۹۵۳) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَائَ أَعْرَابِیٌّ إِلَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: السَّلامُ عَلَیْک یَا غُلامَ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ: وَعَلَیْک ، فَقَالَ: إنِّی رَجُلٌ مِنْ أَخْوَالِکَ مِنْ بَنِی سَعْدِ بْنِ بَکْرٍ وَأَنَا رَسُولُ قَوْمِی إلَیْک وَوَافِدُہُمْ وَأَنَا سَائِلُک فَمُشْتَدَّۃٌ مَسْأَلَتِی إیاک ، وَمُنَاشِدُک فَمُشْتَدَّۃٌ مُنَاشَدَتِی إیَّاکَ ، قَالَ: خُذْ یَا أَخَا بَنِی سَعْدٍ ، قَالَ: مَنْ خَلَقَک وَہُوَ خَالِقُ مَنْ قَبْلَک وَہُوَ خَالِقُ مَنْ بَعْدَکَ ؟ قَالَ: اللَّہُ ، قَالَ: نَشَدْتُک بِذَلِکَ أَہُوَ أَرْسَلَک ؟ قَالَ: نَعَمْ ، قَالَ: مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالأَرْضِینَ السَّبْعَ وَأَجْرَی بَیْنَہُنَّ الرِّزْقَ ؟ قَالَ: اللَّہُ ، قَالَ: نَشَدْتُک بِذَلِکَ أَہُوَ أَرْسَلِکَ ؟ قَالَ: نَعَمْ ، قَالَ: فَإِنَّا وَجَدْنَا فِی کِتَابِکَ وَأَمَرَتْنَا رُسُلُک أَنْ نُصَلِّیَ فِی الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ لِمَوَاقِیتِہَا فَنَشَدْتُک بِذَلِکَ أَہُوَ أَمَرَک بِہِ ؟ قَالَ: نَعَمْ ، قَالَ: فَإِنَّا وَجَدْنَا فِی کِتَابِکَ وَأَمَرَتْنَا رُسُلُک أَنْ نَأْخُذَ مِنْ حَوَاشِی أَمْوَالِنَا فَنَرُدَّہَا عَلَی فُقَرَائِنَا فَنَشَدْتُک بِذَلِکَ أَہُوَ أَمَرَک بِذَلِکَ ؟ قَالَ: نَعَمْ ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا الْخَامِسَۃُ فَلَسْت سَائلک عنہا ، وَلا أَرَبَ لِی فِیہَا ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: أَمَا وَالَّذِی بَعَثَک بِالْحَقِّ لأَعْمَلَنَّ بِہَا وَمَنْ أَطَاعَنِی مِنْ قَوْمِی ، ثُمَّ رَجَعَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَئِنْ صَدَقَ لَیَدْخُلَنَّ الْجَنَّۃَ۔
(٣٠٩٥٣) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا : تجھ پر سلامتی ہو اے بنی عبدالمطلب کے لڑکے : پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھ پر بھی ہو : پھر اس نے کہا : بیشک میں تمہارے ننھیال قبیلہ بنو سعد بن بکر قبیلہ کا آدمی ہوں۔ اور میں تمہاری طرف اپنی قوم کا پیغامبر اور قاصد بن کر آیا ہوں ۔ اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ سوال کروں گا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میرا سوال کرنا سخت انداز میں ہوگا۔ اور آپ سے قسم کا مطالبہ کرنا ، پس میرے آپ سے قسم کے مطالبہ میں سختی ہوگی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنو سعد کے بھائی : سوال کرو۔
اس دیہاتی نے کہا : آپ کو کس نے پیدا کیا ؟ اور وہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے لوگوں کا اور آپ کے بعد والے لوگوں کا پیدا کرنے والا ہوگا۔ ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ نے ، دیہاتی نے پوچھا : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا اس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے پوچھا : ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو کس نے پیدا کیا اور ان کے درمیان رزق کس نے پھیلایا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے، اس نے پوچھا : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا اس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں، اس نے عرض کیا : پس ہم آپ کی کتاب میں لکھا ہوا پاتے ہیں اور آپ کے قاصد نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم دن اور رات میں پانچ نمازیں ان کے وقت پر ادا کریں۔ میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں ، کیا یہی معاملہ ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے عرض کیا : پس ہم آپ کی کتاب میں لکھا ہوا پاتے ہیں اور آپ کے قاصد نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اپنے مالوں میں سے مقررہ حصہ نکال کر اپنے فقراء میں تقسیم کردیں۔ میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا معاملہ اسی طرح ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! پھر اس نے عرض کیا : بہرحال پانچواں سوال میں اس کے متعلق آپ سے نہیں پوچھوں گا اور نہ ہی مجھے اس میں کوئی شک ہے ، راوی کہتے ہیں ، پھر اس نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میں اور میری قوم میں سے جو میری اطاعت کرے گا ضرور بالضرور ان اعمال کی پابندی کریں گے۔ پھر وہ واپس لوٹ گیا۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اتنا ہنسے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر اس نے سچ کہا تو یہ ضرور بالضرور جنت میں داخل ہوگا۔