(۳۰۹۵۴) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ: حدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: کُنَّا قَدْ نُہِینَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ شَیْئٍ ، فَکَانَ یُعْجِبُنَا أَنْ یَأْتِیَ الرَّجُلُ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ الْعَاقِلُ فَیَسْأَلُہُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ ، فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ ، فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ أَتَانَا رَسُولُک فَزَعَمَ أَنَّ اللَّہَ أَرْسَلِکَ ، فقَالَ: صَدَقَ ، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَائَ ؟ قَالَ: اللَّہُ ، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الأَرْضَ ؟ قَالَ: اللَّہُ ، قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ ہَذِہِ الْجِبَالَ ؟ قَالَ: اللَّہُ ، قَالَ: فَبِالَّذِی خَلَقَ السَّمَائَ وَخَلَقَ الأَرْضَ وَنَصَبَ الْجِبَالَ آللَّہُ أرسلک ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُک أَنَّ عَلَیْنَا خمس صلوات فی یومنا ولیلتنا قَالَ صدق ،قَالَ: فَبِالَّذِی أرسلک آللَّہُ أمرک بہذا قَالَ نعم: قَالَ: وزَعَمَ رَسُولُک أَنَّ عَلَیْنَا زکاۃ فی أموالنا قَالَ صدق ،قَالَ: فَبِالَّذِی أرسلک آللَّہُ أمرک بہذا قَالَ نعم: قَالَ: فزَعَمَ رَسُولُک أَنَّ عَلَیْنَا صَوْمَ شَہْر رَمَضَانَ فِی سَنَتِنَا ، قَالَ: صَدَقَ ، قَالَ: فَبِالَّذِی خَلَقَ السَّمَائَ وَخَلَقَ الأَرْضَ وَنَصَبَ الْجِبَالَ آللَّہُ أَمَرَک بِہَذَا ؟ قَالَ: نَعَمْ ، قَالَ: وزَعَمَ رَسُولُک ، أَنَّ عَلَیْنَا الْحَجَّ لِمَنِ اسْتَطَاعَ إلَیْہِ سَبِیلاً ، قَالَ صَدَقَ ، قَالَ: فَبِالَّذِی خَلَقَ السَّمَائَ وَخَلَقَ الأَرْضَ وَنَصَبَ الْجِبَالَ آللَّہُ أَمَرَک بِہَذَا ؟ قَالَ: نَعَمْ ، ثُمَّ وَلَّی ، وَقَالَ: وَالَّذِی بَعَثَک بِالْحَقِّ لاَ أَزْدَادُ عَلَیْہِ شَیْئًا ، وَلا أَنْقُصُ مِنْہُ شَیْئًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنْ صَدَقَ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔ (مسلم ۴۱۔ ترمذی ۶۱۹)
(٣٠٩٥٤) حضرت ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت انس (رض) نے ارشاد فرمایا : تحقیق ہمیں روک دیا گیا تھا کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی بھی چیز کے متعلق سوال کریں، تو ہم پسند کرتے تھے کہ گاؤں والوں میں سے کوئی عقل مند آدمی آ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرے اور ہم سنیں، پس ایک دیہاتی آدمی آگیا اور کہنے گا : اے محمد 5! ہمارے پاس آپ کا قاصد آیا اس نے دعویٰ کیا کہ آپ کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس نے سچ کہا : اس نے پوچھا : زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے، اس نے پوچھا : ان پہاڑوں کو کس نے گاڑا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے ، اس نے کہا : پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آسمان کو پیدا کیا اور زمین کو پیدا کیا، اور پہاڑوں کو گاڑا کیا اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں !
ٍ اس نے عرض کیا اور آپ کے قاصد نے یہ دعویٰ کیا کہ ہم پر دن رات میں پانچ نمازوں کا ادا کرنا ضروری ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے سچ کہا : اس نے پوچھا : پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا : کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے عرض کیا، آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا کہ ہم پر ہمارے مالوں میں زکوۃ ادا کرنا ضروری ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے سچ کہا : اس نے پوچھا ! پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے عرض کیا : پس آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا : ہم پر سال میں ایک مہینہ کے روزے رکھنا لازم ہے۔ آپ نے فرمایا : اس نے سچ کہا ! اس نے پوچھا : پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور پہاڑوں کو گاڑا کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے عرض کیا : آپ کے قاصد نے کہا : ہم میں سے ان لوگوں پر حج فرض ہے جو اس کے راستہ کی استطاعت رکھتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے سچ کہا۔ اس نے پوچھا ! پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور پہاڑوں کو گاڑا کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں پھر وہ پلٹا اور کہنے لگا : اور قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا نہ ہی اس میں کسی قسم کی زیادتی کروں گا اور نہ ہی اس میں سے کسی قسم کی کمی کروں گا ۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر اس نے سچ کہا تو جنت میں داخل ہوگا۔