(۳۰۹۸۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الزَّرْعِ لاَ تَزَالُ الرِّیحُ تُمِیلُہُ ، وَلا یَزَالُ الْمُؤْمِنُ یُصِیبُہُ بَلائٌ ، وَمَثَلُ الْکَافِرِ کَمَثَلِ شَجَرَۃِ الأَرْزِ لاَ تَہْتَزُّ حَتَّی تَسْتَحْصِدَ ۔ (مسلم ۲۱۶۳۔ ترمذی ۲۸۶۶)
(٣٠٩٨١) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مومن کی مثال اس کھیتی کی سی ہے جس کو ہوا مسلسل جھکاتی رہتی ہے ، اور اسی طرح مومن بھی ہمیشہ بلاؤں اور مصیبتوں میں مبتلا رہتا ہے۔ اور کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی سی ہے وہ نشو ونما نہیں پاتا یہاں تک کہ اس کے کٹنے کا وقت آجاتا ہے۔