(۳۱۰۶۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا دَاوُد ، عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی ، عَنْ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ ، قَالَ : أَوَّلُ مَا یُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ یَوْم الْقِیَامَۃ صَلاۃُ الْمَکْتُوبَۃُ فَإِنْ أَتَمَّہَا وَإِلاَّ قِیلَ : انْظُرُوا ہَلْ لَہُ مِنْ تَطَوُّعٍ ، فَأُکْمِلَت الْفَرِیضَۃُ مِنْ تَطَوُّعِہِ ، فَإِنْ لَمْ تَکْمُلَ الْفَرِیضَۃُ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ تَطَوُّعٌ أُخِذَ بِطَرَفَیْہِ فَقُذِفَ بِہِ فِی النَّارِ۔
(ابن ماجہ ۱۴۲۶۔ دارمی ۱۳۵۵)
(٣١٠٦١) حضرت زراہ بن اوفی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت تمیم الداری (رض) نے ارشاد فرمایا : قیامت میں آدمی کے اعمال میں سب سے پہلے فرض نماز کا حساب کیا جائے گا، اگر وہ پوری نکل آئی تو ٹھیک ورنہ کہا جائے گا : دیکھو کیا اس کے پاس نفلوں کا بھی کوئی ذخیرہ ہے ؟ اگر ہوا تو پھر اس کے نفلوں سے فرض کی تکمیل کردی جائے گی۔ اور اگر اس کے فرائض مکمل نہ ہوئے اور اس کے پاس نفلوں کا ذخیرہ بھی نہ ہوا ۔ تو پھر اس کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا جائے گا۔ اور اس طرح سے اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔