(۳۱۰۶۲) حَدَّثَنَا یُونُسَ بْن ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ الأَنْصَارِیِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقِیَ عَوْفَ بْنَ مَالِکٍ ، فَقَالَ : کَیْفَ أَصْبَحْت یَا عَوْفَ بْنَ مَالِکٍ ، قَالَ : أَصْبَحْت مُؤْمِنًا حَقًّا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّ لِکُلِّ قَوْلٍ حَقِیقَۃً ، فَمَا ذَلِکَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ : أَلَمْ أَظْلف نَفْسِی ، عَنِ الدُّنْیَا ، أسْہَرْت لَیْلِی وَأَظْمَأْت ہَوَاجِرِی , وَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی عَرْشِ رَبِّی ، وَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی أَہْلِ الْجَنَّۃِ یَتَزَاوَرُونَ فِیہَا ، وَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی أَہْلِ النَّارِ یَتَضَاغُونَ فِیہَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : عَرَفْت أَوْ آمَنْت فَالْزَمْ۔
(٣١٠٦٢) حضرت محمد بن صالح الانصاری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عوف بن مالک (رض) سے ملاقات کی تو فرمایا : اے عوف بن مالک ! تو نے کس حال میں صبح کی ؟ آپ (رض) نے عرض کیا : میں نے سچا مومن ہونے کی حالت میں صبح کی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک ہر قول کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔ اس بات کی کیا حقیقت ہے ؟ آپ (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! کیا میں نے اپنے نفس کو دنیا سے نہیں روکا ؟ میں نے راتوں میں خود کو جگایا : اور شدید گرمی کی دوپہر میں خود کو پیاسا رکھا۔ گویا کہ میں اہل جنت کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے جنت میں باتیں کر رہے ہیں، اور گویا کہ میں اہل جہنم کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ جہنم میں چیخ و پکار کر رہے ہیں۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تو نے پہچان لیا یا فرمایا تو ایمان لایا پس اس کو لازم پکڑے رکھ۔