(۳۱۱۲۴) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ مَرْوَانَ ، عَنْ أَبِی عَائِشَۃَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : خَرَجَ إلَیْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاۃٍ ، فَقَالَ : رَأَیْت آنِفًا أَنِّی أُعْطِیت الْمَوَازِینَ وَالْمَقَالَیدَ ، فَأَمَّا الْمَقَالَیدُ فَہَذِہِ الْمَفَاتِیحُ ، فَوُضِعْت فِی کِفَّۃٍ وَوُضِعَتْ أُمَّتِی فِی کِفَّۃٍ فَرَجَحْت بِہِمْ ، ثُمَّ جِیئَ بِأَبِی بَکْرٍ فَرَجَحَ ، ثُمَّ جِیئَ بِعُمَرَ فَرَجَحَ ، ثُمَّ جِیئَ بِعُثْمَانَ فَرَجَحَ ، قَالَ : ثُمَّ رُفِعْت ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : فَأَیْنَ نَحْنُ ؟ قَالَ : حَیْثُ جَعَلْتُمْ أَنْفُسَکُمْ۔ (احمد ۷۶)
(٣١١٢٤) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری طرف نکلے اور فرمایا کہ میں نے ابھی دیکھا ہے کہ مجھے ترازو اور کنجیاں دی گئی ہیں، کنجیاں تو یہی چابیاں ہیں، مجھے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری امت کو ایک پلڑے میں رکھا گیا پس میں ان سے جھک گیا، پھر ابوبکر کو لایا گیا اور ان کا وزن کیا گیا تو وہ جھک گیا پھر عمر کو لایا گیا اور ان کا وزن کیا گیا وہ بھی جھک گئے، پھر عثمان کو لایا گیا اور ان کو تولا گیا تو وہ بھی جھک گئے، آپ نے فرمایا کہ پھر ترازو کو اٹھا لیا گیا۔
راوی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے آپ سے عرض کیا کہ پھر ہم کہاں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا کہ جس جگہ تم اپنے آپ کو رکھو گے۔