(۳۱۱۲۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ سَالِمِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : رَأَیْتُ فِی النَّوْمِ کَأَنِّی أَنْزَعُ بِدَلْوِ بَکَرَۃٍ عَلَی قَلِیبٍ ، فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوباً أَوْ ذَنُوبَیْنِ ، فَنَزَعَ نَزْعًا ضَعِیفًا ، وَاللَّہُ یَغْفِرُ لَہُ ، ثُمَّ جَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَاسْتَقَی فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِیًّا مِنَ النَّاسِ یَفْرِی فَرِیَّہُ ، حَتَّی رَوِیَ النَّاسُ وَضَرَبُوا بِعَطَنٍ۔ (بخاری ۳۶۷۶۔ مسلم ۱۹)
(٣١١٢٥) حضرت سالم اپنے والد حضرت عبداللہ (رض) سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک کنویں پر لگی چرخی کے ڈول کو کھینچ رہا ہوں، پس ابوبکر آئے اور انھوں نے ایک یا دو ڈول نکالے، پس انھوں نے کمزوری کے ساتھ کھینچا اور اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرما دیں گے، پھر عمر بن خطاب آئے اور انھوں نے پانی نکالنا شروع کیا تو وہ ڈول بہت بڑے ڈول کی شکل اختیار کر گیا، میں نے کوئی ایسا زور آور شخص نہیں دیکھا جو ان جیسا عمدہ کام کرنے والا ہو، یہاں تک کہ لوگ سیراب ہوگئے اور اپنے اونٹوں کو پانی کے قریب ٹھہرانے لگے۔