(۳۱۱۳۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : مَرَّ صُہَیْبٌ بِأَبِی بَکْرٍ فَأَعْرَضَ عَنْہُ، فَقَالَ : مَالَک أَعْرَضْت عَنِّی ؟ أَبْلَغَک شَیْئٌ تَکْرَہُہُ ؟ قَالَ : لاَ وَاللہِ إلاَّ رُؤْیَا رَأَیْتہَا لَکَ کَرِہْتُہَا ، قَالَ : وَمَا رَأَیْت ؟ قَالَ : رَأَیْتُ یَدَک مَغْلُولَۃً إلَی عُنُقِکَ عَلَی بَابِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ یُقَالَ لَہُ : أَبُو الْحَشْرِ ! فَقَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ : نِعْمَ مَا رَأَیْت ، جَمَعَ لِی دَیْنِی إلَی یَوْمِ الْحَشْرِ۔
(٣١١٣٦) حضرت مسروق (رض) سے روایت ہے کہ حضرت صہیب (رض) حضرت ابوبکر (رض) کے پاس سے گزرے تو انھوں نے آپ سے منہ موڑ لیا، حضرت نے فرمایا کہ آپ نے کس بنا پر مجھ سے منہ موڑ لیا ؟ کیا آپ کو میری طرف سے کوئی ناپسندیدہ بات پہنچی ہے ؟ انھوں نے فرمایا بخدا ایسا نہیں ہے، البتہ میں نے آپ کے بارے میں ایک خواب دیکھا ہے جو مجھے برا لگا ہے۔ انھوں نے کہا آپ نے کیا دیکھا ہے ؟ فرمایا کہ میں نے آپ کا ہاتھ گردن کے ساتھ بندھا ہوا دیکھا ہے انصار کے ایک آدمی کے دروازے پر جس کا نام ” ابو الحشر “ ہے، حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا کہ آپ نے بہترین خواب دیکھا ہے ، اللہ تعالیٰ نے میرے لیے میرے دین کو قیامت تک جمع رکھا ہے۔