(۳۱۱۴۵) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : حدَّثَنِی غَیْرُ وَاحِدٍ : أَنْ قَاضِیًا مِنْ قُضَاۃِ أَہْلِ الشَّامِ أَتَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، رَأَیْت رُؤْیَا أَفْظَعَتْنِی ، قَالَ مَا ہِیَ ؟ قَالَ : رَأَیْتُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ یَقْتَتِلاَنِ وَالنُّجُومَ مَعَہُمَا نِصْفَیْنِ ، قَالَ : فَمَعَ أَیِّہِمَا کُنْت ، قَالَ : مَعَ الْقَمَرِ عَلَی الشَّمْسِ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ آیَتَیْنِ فَمَحَوْنَا آیَۃَ اللَّیْلِ وَجَعَلْنَا آیَۃَ النَّہَارِ مُبْصِرَۃً ، قَالَ : فَانْطَلِقْ فَوَاللہِ لاَ تَعْمَلُ لِی عَمَلاً أَبَدًا۔
(٣١١٤٥) حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ مجھ سے بہت سے لوگوں نے بیان کیا کہ شام کے قاضیوں میں سے ایک قاضی حضٗرت عمر (رض) کے پاس آئے، اور عرض کیا اے امیر المومنین ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس نے مجھے گھبراہٹ میں ڈال دیا، آپ نے فرمایا کیا خواب ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے سورج اور چاند کو آپس میں جنگ کرتے ہوئے دیکھا جبکہ ستارے بھی آدھے آدھے ان کے ساتھ تھے، آپ نے فرمایا کہ تم کس کے ساتھ تھے ؟ اس نے کہا چاند کے ساتھ ، حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ” وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ آیَتَیْنِ فَمَحَوْنَا آیَۃَ اللَّیْلِ وَجَعَلْنَا آیَۃَ النَّہَارِ مُبْصِرَۃً “ ( اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے پس ہم نے رات کی نشانی کو مٹا دیا اور دن کی نشانی کو روشن بنادیا) آپ نے فرمایا : چلے جاؤ، خدا کی قسم تم کبھی میرے لیے کام نہ کرو گے !۔