(۳۱۲۱۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ، عَنْ زِیَادٍ ، قَالَ : لَمَّا أَرَادَ عُثْمَان أَنْ یَجْلِدَ الْوَلِیدَ ، قَالَ لِطَلْحَۃَ : قُمْ فَاجْلِدْہُ ، قَالَ : إنِّی لَمْ أَکُنْ مِنَ الْجَلاَدِینَ ، فَقَامَ إلَیْہِ عَلِیٌّ فَجَلَدَہُ ، فَجَعَلَ الْوَلِیدُ یَقُولُ لِعَلِیٍّ : أَنَا صَاحِبُ مَکِینَۃٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِزِیَادٍ : وَمَا صَاحِبُ مَکِینَۃٍ ؟ قَالَ : امْرَأَۃٌ کَانَ یَتَحَدَّثُ إِلَیْہَا۔
(٣١٢١٨) زیاد راوی ہیں کہ جب حضرت عثمان (رض) نے ولید کو کوڑے مارنے کا ارادہ کیا تو حضرت طلحہ سے فرمایا کہ کھڑے ہو کر ان کو کوڑے مارو، وہ کہنے لگے میں کوڑے مارنے والا نہیں ہوں ، چنانچہ حضرت علی (رض) کھڑے ہوئے اور اس کو کوڑے لگائے تو ولید کہنے لگا کہ میں مکینہ کا ساتھی ہوں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے زیاد سے پوچھا کہ مکینہ کے ساتھی کا کیا مطلب ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ مکینہ ایک عورت تھی جس سے وہ باتیں کیا کرتا تھا۔