(۳۱۲۴۰) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ : مَا رَأَیْت أَبَا وَائِلٍ سَبَّ دَابَّۃً قَطُّ إلاَّ الْحَجَّاجَ مَرَّۃً وَاحِدَۃً، فَإِنَّہُ ذَکَرَ بَعْضَ صَنِیعَہُ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ أَطْعِمَ الْحَجَّاجَ طَعَامًا مِنْ ضَرِیعٍ لاَ یُسْمِنُ وَلاَ یُغْنِی مِنْ جُوعٍ ، قَالَ: ثُمَّ تَدَارَکَہَا بَعْدُ ، فَقَالَ : إنْ کَانَ ذَلِکَ أَحَبَّ إلَیْک ، فَقُلْتُ : أَتَشُکُّ فِی الْحَجَّاجِ ؟ قَالَ : وَتَعُدُّ ذَلِکَ ذَنْبًا؟۔
(٣١٢٤٠) حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے ابو وائل (رض) کو کبھی نہیں دیکھا کہ انھوں نے زمین پر چلنے والے کسی ذی روح کو برا بھلا کہا ہو سوائے حجاج کے کہ انھوں نے ایک مرتبہ اس کی بدعملیوں کا ذکر کر کے فرمایا اے اللہ ! حجاج کو ضریع نامی جھاڑ میں سے کھلا ایسا کھانا جو نہ فربہ کرے اور نہ بھوک مٹائے، فرماتے ہیں کہ پھر انھوں نے بطور تدارک کے فرمایا : اگر آپ اس بات کو پسند فرمائیں، میں نے عرض کیا کہ کیا آپ کو حجاج کے بارے میں ابھی تک شک ہے ؟ انھوں نے فرمایا کیا تم اس بات کے اضافے کو گناہ سمجھتے ہو۔