hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 31240

.

ابن أبي شيبة

31240
Ibn Abi Shaybah
(۳۱۲۴۱) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ ، قَالَ : بَلَغَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ أَنَّ طَلْحَۃَ یَقُولُ : إنَّمَا بَایَعْت وَاللُّجُّ عَلَی قَفَای ، فَأَرْسَل ابْنُ عَبَّاسٍ فَسَأَلَہُ ، قَالَ : فَقَالَ أُسَامَۃُ : أَمَّا اللُّجُّ عَلَی قَفَاہُ فَلا ، وَلَکِنْ قَدْ بَایَعَ وَہُوَ کَارِہٌ ، قَالَ : فَوَثَبَ النَّاسُ إلَیْہِ حَتَّی کَادُوا أَنْ یَقْتُلُوہُ ، قَالَ : فَخَرَجَ صُہَیْبٌ وَأَنَا إلَی جَنْبِہِ ، فَالْتَفَتَ إلَیَّ فَقَالَ : قَدْ عَلِمْت أَنَّ أُمَّ عَوْفٍ حَائِنَۃٌ۔
(٣١٢٤١) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت طلحہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے ایسی حالت میں بیعت کی ہے کہ میری گدّی پر تلوار رکھی ہوئی تھی، آپ نے حضرت ابن عباس (رض) کو ان کے پاس بھیجا انھوں نے ان سے اس بات کی حقیقت پوچھی تو حضرت اسامہ (رض) نے فرمایا کہ گدّی پر تلوار تو نہیں تھی لیکن دراصل بات یہ ہے کہ انھوں ایسی حالت میں بیعت کی ہے کہ وہ مجبور کیے گئے تھے، چنانچہ لوگ ان پر پل پڑے قریب تھا کہ ان کو جان سے مار ڈالتے، فرماتے ہیں کہ پھر حضرت صہیب (رض) نکلے اور میں ان کے پہلو میں تھا، انھوں نے میری طرف دیکھ کر فرمایا تم جانتے ہو کہ ٹڈّی ہلاک ہو کر ہی رہتی ہے۔