(۳۱۲۶۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ مِنْ مَکَّۃَ إلَی الْکُوفَۃِ لِیُنْطَلَقَ بِہِ إلَی الْحَجَّاجِ إلَی وَاسِطٍ ، قَالَ : فَأَتَیْنَاہُ وَنَحْنُ ثَلاَثَۃُ نَفَرٍ ، أَوْ أَرْبَعَۃٌ ، فَوَجَدْنَاہُ فِی کُنَاسَۃِ الْخَشَبِ فَجَلَسْنَا إلَیْہِ ، فَبَکَی رَجُلٌ مِنَّا ، فَقَالَ لَہُ سَعِیدٌ : مَا یُبْکِیَک ، قَالَ : أَبْکِی لِلَّذِی نَزَلَ بِکَ مِنَ الأَمْرِ ، قَالَ : فَلاَ تَبْکِ فَإِنَّہُ قَدْ کَانَ سَبَقَ فِی عِلْمِ اللہِ یَکُونُ ہَذَا ، ثُمَّ قَرَأَ : {مَا أَصَابَ مِنْ مُصِیبَۃٍ فِی الأَرْضِ ، وَلاَ فِی أَنْفُسِکُمْ إلاَّ فِی کِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَہَا إنَّ ذَلِکَ عَلَی اللہِ یَسِیرٌ}۔
(٣١٢٦٢) ربیع بن ابی صالح فرماتے ہیں کہ جب سعید بن جبیر مکہ سے کوفہ آئے تاکہ ان کو واسط میں حجاج کے پاس لے جایا جائے تو ہم تین یا چار آدمی ان کے پاس آئے تو ہم نے ان کو لکڑی کے ایک ڈھیر میں بیٹھا ہوا پایا۔ ہم ان کے پاس بیٹھے تو ہم میں سے ایک آدمی رو پڑا، سعید نے ان سے پوچھا کہ تمہیں کیا چیز رلاتی ہے ؟ عرض کیا کہ میں آپ کی مصیبت پر رو رہا ہوں، آپ نے فرمایا نہ روؤ کیونکہ اللہ کے علم میں پہلے سے یہ بات ہے کہ اس طرح ہوگا، پھر آپ نے پڑھا { مَا أَصَابَ مِنْ مُصِیبَۃٍ فِی الأَرْضِ ، وَلاَ فِی أَنْفُسِکُمْ إلاَّ فِی کِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَہَا إنَّ ذَلِکَ عَلَی اللہِ یَسِیرٌ}(زمین میں اور تمہاری جانوں میں کوئی مصیبت نہیں آتی مگر وہ لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے ہمارے اس زمین کو پیدا کرنے سے پہلے، بیشک یہ اللہ تعالیٰ پر آسان ہے۔