(۳۱۲۶۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُغِیرَۃُ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ ہُرْمُزَ، عَنْ عَبَّادٍ، قَالَ: أَتَی الْمُخْتَارُ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ بِمَالٍ مِنَ الْمَدَائِنِ وَعَلَیْہَا عَمُّہُ سَعْدُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : فَوَضَعَ الْمَالَ بَیْنَ یَدَیْہِ وَعَلَیْہِ مُقَطَّعَۃٌ حَمْرَائُ، قَالَ: فَأَدْخَلَ یَدَہُ فَاسْتَخْرَجَ کِیسًا فِیہِ نَحْوٌ مِنْ خَمْسَ عَشْرَۃَ مِئَۃ، قَالَ: ہَذَا مِنْ أُجُورِ الْمُومِسَاتِ قَالَ : فَقَالَ عَلِیٌّ : لاَ حَاجَۃَ لَنَا فِی أُجُورِ الْمُومِسَاتِ ، قَالَ : وَأَمَرَ بِمَالِ الْمَدَائِنِ فَرُفِعَ إلَی بَیْتِ الْمَالِ ، قَالَ : فَلَمَّا أَدْبَرَ ، قَالَ لَہُ عَلِیٌّ : قَاتَلَہُ اللہ ، لَوْ شُقَّ عَلَی قَلْبِہِ لَوُجِدَ مَلآنُ مِنْ حُبِّ اللاَّتِ وَالْعُزَّی۔
(٣١٢٦٣) عباد فرماتے ہیں کہ مختار حضرت علی (رض) کے پاس مدائن سے مال لے کر آیا اور مدائن پر اس کے چچا سعد بن مسعود حاکم تھے، راوی کہتے ہیں کہ اس نے ان کے سامنے مال رکھا اس پر سرخ رنگ کی چادر پڑی تھی، اس نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا اور ایک تھیلی اس میں سے نکالی جس میں تقریباً پندرہ سو درہم تھے، کہنے لگا کہ یہ زانیہ عورتوں کی اجرتیں ہیں، حضرت علی (رض) نے فرمایا ہمیں زانیہ عورتوں کی اجرتوں کی کوئی ضرورت نہیں، فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے پھر مدائن کے مال کو بیت المال میں داخل کرنے کا حکم دیا اور جب مختار چلا گیا تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس کو غارت کرے اگر اس کا سینہ چیر کر دیکھا جائے تو لات اور عزّیٰ کی محبت سے بھرا ہوا ملے۔